ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 25

وَ اللّٰہُ یَدۡعُوۡۤا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ ؕ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۲۵﴾
اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستے تک پہنچا دیتا ہے۔ En
اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے
En
اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف تم کو بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راه راست پر چلنے کی توفیق دیتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25) {وَ اللّٰهُ يَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ…:} اوپر کی آیت میں دنیا اور اس کے بہت جلد زوال کا ذکر کرکے لوگوں کو اس کی طرف مائل ہونے سے نفرت دلائی، اب اس آیت میں جنت کی ترغیب دی اور جنت کا نام دار السلام رکھا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۲۵ تا ۱۲۷) یعنی جو ہر قسم کے آفات و آلام سے پاک ہے اور اس میں سلامتی ہی سلامتی ہے، فرشتے ہر طرف سے اس میں سلام کریں گے اور اہل جنت بھی ایک دوسرے کو سلام کا تحیہ پیش کریں گے، فرمایا: «{ وَ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ [یونس: ۱۰] اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہو گی۔ رب رحیم کی طرف سے بھی سلام کی نعمت سے سرفراز ہوں گے، فرمایا: «{ سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ [یٰسٓ: ۵۸] سلام ہو، اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بے حد مہربان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی دعوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے دی ہے، چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل اور میکائیل نے آپس میں میرے لیے ایک مثال بیان کی کہ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک بادشاہ نے ایک محل بنایا، پھر اس میں ایک شان دار دعوت کا اہتمام کیا اور لوگوں کو بلانے کے لیے ایک بلانے والا بھیجا، پس جس شخص نے اس بلانے والے کے کہنے کو قبول کیا وہ تو محل میں بھی داخل ہو گا اور کھانا بھی کھائے گا اور جو بلانے والے کے کہنے کو قبول نہیں کرے گا وہ نہ تو محل میں داخل ہو گا اور نہ کھانا کھائے گا، پھر انھوں نے کہا، اس کے لیے اس کی وضاحت کرو، تاکہ یہ سمجھ جائے! تو ایک نے کہا کہ وہ محل جنت ہے اور اس کی طرف بلانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تو جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی، تو اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے (اچھے برے کے) درمیان فرق (کرنے والے) ہیں۔ [بخاری، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ۷۲۸۱]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ (تم ایسی زندگی پر ریجھتے ہو) اور اللہ تمہیں سلامتی [37] کے گھر (جنت) کی طرف بلاتا ہے اور وہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھلا دیتا ہے
[37] دنیا کی اس فانی زندگی کے مقابلہ میں آخرت کی ایک پائیدار اور لازوال زندگی بھی ہے جس کی زینت اور رعنائیاں اس دنیا سے بدرجہا زیادہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اسی سلامتی کے گھر کی طرف بلا رہا ہے جہاں کسی ارضی یا سماوی آفت کے آپڑنے کا کوئی اندیشہ نہیں نہ ہی وہاں موت کا خطرہ ہے اور وہاں تک پہنچنے کا راستہ بھی بتلا رہا ہے۔ لہٰذا دنیا کی پر فریب اور فانی زندگی پر مفتون نہ ہو جاؤ بلکہ اللہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اس ہر آفت سے محفوظ گھر کا قصد کرو جہاں فرشتے بھی تمہارے لیے سلامتی کی دعائیں کریں گے اور خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی تحفہ سلام پہنچے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دنیا اور اس کی حقیقت ٭٭
دنیا کی ٹیپ ٹاپ اور اس کی دو گھڑی کی سہانی رونق پھر اس کی بربادی اور بے رونقی کی مثال زمین کے سبزے سے دی جا رہی ہے کہ بادل سے پانی برسا زمین لہلہا اُٹھی، طرح طرح کی سبزیاں، چارے، پھل پھول، کھیت باغات، پیدا ہو گئے۔ انسانوں کے کھانے کی چیزں، جانوروں کے چرنے چگنے کی چیزیں، چاروں طرف پھیل پڑیں، زمین سرسبز ہو گئی، ہر چہار طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آنے لگی، کھیتی والے خوش ہوگئے، باغات والے پھولے نہیں سماتے کہ اب کے پھل اور انجاج بکثرت ہے۔ ناگہاں آندھیوں کے جھکڑ چلنے لگلے، برف باری ہوئی، اولے گرے، پالہ پڑا، پھل چھوڑ پتے بھی جل گئے۔ درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، تازگی خشکی سے بدل گئی، پھل ٹھٹھر گئے۔، جل گئے، کھیت و باغات ایسے ہو گئے گویا تھے ہی نہیں اور جو چیز کل تھی بھی آج نہیں تو گویا کل بھی نہ تھی۔
حدیث میں ہے { بڑے دنیادار کروڑ پتی کو جو ہمیشہ ناز و نعمت میں ہی رہا تھا، لا کر جہنم میں ایک غوطہٰ دے کر پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کہو تمہاری زندگی کیسی گزری؟ وہ جواب دے گا کہ میں نے تو کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی۔ کبھی آرام کا نام بھی نہیں سنا۔ اسی طرح دنیا کی زندگی میں ایک گھڑی بھی جس پر آرام کی نہیں گزری تھی اسے لایا جائے گا۔ جنت میں ایک غوطہٰ کھلا کر پوچھا جائے گا کہ کہو دنیا میں کیسے رہے؟ جواب دے گا کہ پوری عمر کبھی رنج و غم کا نام بھی نہیں سنا کبھی تکلیف اور دکھ دیکھا بھی نہیں } }۔ [صحیح مسلم:2807]‏‏‏‏
اللہ تعالیٰ اسی طرح عقلمندوں کے لیے واقعات واضح کرتا ہے تاکہ وہ عبرت حاصل کر لیں۔ ایسا نہ ہو اس فانی چند روزہ دنیا کے ظاہری چکر میں پھنس جائیں اور اس ڈھل جانے والے سائے کو اصلی اور پائیدار سمجھ لیں۔ اس کی رونق دو روزہ ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو اپنے چاہنے والوں سے بھاگتی ہے
اور نفرت کرنے والوں سے لپٹتی ہے۔ دنیا کی زندگی کی مثال اسی طرح ہے اور بھی بہت سی آیتوں میں بیان ہوئی ہے۔ مثلاً سورۃ الکہف کی آیت «وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِيْمًا تَذْرُوْهُ الرِّيٰحُ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا» ۱؎ [18-الكهف:45]‏‏‏‏ میں اور سورۃ الزمر اور سورۃ الحدید میں۔
خلیفہ مروان بن حکم نے منبر پر آیت «وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا وَمَا كَانَ اللهُ لِيُهْلِكَهَا إِلا بِذُنُوبِ أَهْلِهَا» پڑھ کر فرمایا میں نے تو اسی طرح پڑھی ہے لیکن قرآن میں یہ لکھی ہوئی نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نے فرمایا میرے والد بھی اسی طرح پڑھتے تھے۔‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس جب آدمی بھیجا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرآت بھی یونہی ہے، لیکن یہ قرأت غریبہ ہے۔‏‏‏‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:17616:سخت ضعیف]‏‏‏‏ اس کی سند اور گویا یہ جملہ تفسیر یہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف اپنے بندوں کو بلاتا ہے جو دنیا کی طرف فانی نہیں بلکہ باقی ہے دنیا کی طرف دو دن کے لیے زینت دار نہیں بلکہ ہمیشہ کی نعمتوں اور ابدی راحتوں والی ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھ سے کہا گیا تیری آنکھیں سو جائیں، تیرا دل جاگتا رہے اور تیرے کان سنتے رہیں چنانچہ ایسا ہی ہوا }۔ پھر فرمایا گیا { ایک سردار نے ایک گھر بنایا۔ وہاں دعوت کا انتظام کیا۔ ایک بلانے والے کو بھیجا۔ پس جس نے اس کی دعوت قبول کی۔ گھر میں داخل ہوا اور دستر خوان سے کھانا کھایا جس نے نہ قبول کی نہ اسے اپنے گھر میں آٹا ملا نہ دعوت کا کھانا میسر ہوا نہ سردار اس سے خوش ہوا۔ پس اللہ سردار ہے اور گھر اسلام ہے اور دستر خوان جنت ہے اور بلانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں } } یہ روایت مرسل ہے۔
دوسری متصل بھی ہے، اس میں ہے کہ{ ایک دن ہمارے مجمع میں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { خواب میں میرے پاس جبرائیل و میکائیل علیہم السلام آئے جبرائیل سرہانے اور میکائیل پیروں کی طرف کھڑے ہوگئے۔ ایک نے دوسرے سے کہا اس کی مثال بیان کرو۔ پھر یہ مثال بیان کی۔ پس جس نے تیری دعوت قبول کی وہ اسلام میں داخل ہوا اور جو اسلام لایا وہ جنت میں پہنچا اور و وہاں کھایا پیا } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2860،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
ایک حدیث میں ہے { ہر دن سورج کے طلوع ہونے کے وقت اس کے دونوں جانب دو فرشتے ہوتے ہیں جو باآواز بلند انسانوں اور جنوں کے سوا سب کو سنا کر کہتے ہیں کہ لوگو! اپنے رب کی طرف آؤ۔ جو کم ہو یا کافی ہو وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے۔ قرآن فرماتا ہے لوگو! اللہ تعالیٰ تمہیں دارالسلام کی طرف بلاتا ہے }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17623:صحیح]‏‏‏‏