دَعۡوٰىہُمۡ فِیۡہَا سُبۡحٰنَکَ اللّٰہُمَّ وَ تَحِیَّتُہُمۡ فِیۡہَا سَلٰمٌ ۚ وَ اٰخِرُ دَعۡوٰىہُمۡ اَنِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۱۰﴾
ان کی دعا ان میں یہ ہوگی’’پاک ہے تو اے اللہ!‘‘ اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہوگی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔
En
(جب وہ) ان میں (ان نعمتوں کو دیکھوں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان الله۔ اور آپس میں ان کی دعا سلامٌ علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول یہ (ہوگا) کہ خدائے رب العالمین کی حمد (اور اس کا شکر) ہے
En
ان کے منھ سے یہ بات نکلے گی سبحان اللہ اور ان کا باہمی سلام یہ ہوگا السلام علیکم اور ان کی اخیر بات یہ ہوگی تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 10) ➊ {دَعْوٰىهُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ …:} یعنی وہ جنت کی نعمتیں اور عجائب دیکھ کر بے اختیار کہیں گے: ”اے اللہ! تو پاک ہے“ بلکہ جس طرح دنیا میں خود بخود سانس جاری رہتا ہے اہل جنت کے دل و زبان پر ہر وقت خود بخود اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید جاری رہے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُوْنَ فِيْهَا وَيَشْرَبُوْنَ وَلَا يَتْفِلُوْنَ وَلاَ يَبُوْلُوْنَ وَلاَ يَتَغَوَّطُوْنَ وَلاَ يَمْتَخِطُوْنَ، قَالُوْا فَمَا بَالُ الطَّعَامِ؟ قَالَ جُشَاءٌ وَ رَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ يُلْهَمُوْنَ التَّسْبِيْحَ وَالتَّحْمِيْدَ كَمَا يُلْهَمُوْنَ النَّفَسَ] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب في صفات الجنۃ وأھلھا…: ۲۸۳۵، عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما] ”جنتی جنت میں کھائیں گے اور پییں گے، وہ نہ تھوکیں گے، نہ پیشاب کریں گے، نہ پاخانہ کریں گے اور نہ ناک صاف کریں گے۔“ صحابہ نے پوچھا: ”جو کھانا وہ کھائیں گے وہ کہاں جائے گا؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”بس ڈکار آئے گا اور پسینا آئے گا جس سے مشک (کستوری) کی خوشبو آئے گی (اور ان کا کھانا تحلیل ہو جائے گا)۔ (ان کے دلوں میں اور ان کی زبانوں پر) تسبیح اور حمد خود بخود بے اختیار جاری ہو گی جس طرح سانس خود بخود جاری ہوتا ہے۔“ {” تَحِيَّتُهُمْ “} باب تفعیل کا مصدر، زندگی کی دعا دینا کہ اللہ تمھیں زندگی بخشے، یعنی وہ ایک دوسرے سے ملیں گے تو ایک دوسرے کو زندہ رہنے کی دعا سلام کے الفاظ سے دیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ ابراہیم (۲۳)، سورۂ مریم (۶۰ تا ۶۲) اور سورۂ واقعہ (۲۵، ۲۶) میں بیان فرمایا ہے۔
➋ {وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ:} اور ان کی دعا اور گفتگو کا اختتام رب العالمین کی حمد کے ساتھ ہو گا، دنیا میں بھی ان کی گفتگو اور دعا کا خاتمہ اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح کے ساتھ ہوا کرتا تھا، جنت میں بھی اسی طرح جاری رہے گا۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص یہ الفاظ کہے: [سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ] کسی ذکر کی مجلس میں تو یہ مہر کی طرح ہوں گے جو آخر میں لگائی جاتی ہے اور جو انھیں کسی لغو کی مجلس میں کہے تو اس کے لیے کفارہ ہوں گے۔“ [مستدرک حاکم: 537/1، ح: ۱۹۷۰۔ السلسلۃ الصحیحۃ: 120/1] عبد اللہ بن عمرو اور ابن مسعود رضی اللہ عنھم کی روایت کے الفاظ ہیں کہ کفارۂ مجلس یہ ہے کہ بندہ یوں کہے: [سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلاَّ أَنْتَ وَحْدَكَ لاَ شَرِيْكَ لَكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ] [صحیح الجامع: ۴۴۸۷]
➋ {وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ:} اور ان کی دعا اور گفتگو کا اختتام رب العالمین کی حمد کے ساتھ ہو گا، دنیا میں بھی ان کی گفتگو اور دعا کا خاتمہ اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح کے ساتھ ہوا کرتا تھا، جنت میں بھی اسی طرح جاری رہے گا۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص یہ الفاظ کہے: [سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ] کسی ذکر کی مجلس میں تو یہ مہر کی طرح ہوں گے جو آخر میں لگائی جاتی ہے اور جو انھیں کسی لغو کی مجلس میں کہے تو اس کے لیے کفارہ ہوں گے۔“ [مستدرک حاکم: 537/1، ح: ۱۹۷۰۔ السلسلۃ الصحیحۃ: 120/1] عبد اللہ بن عمرو اور ابن مسعود رضی اللہ عنھم کی روایت کے الفاظ ہیں کہ کفارۂ مجلس یہ ہے کہ بندہ یوں کہے: [سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلاَّ أَنْتَ وَحْدَكَ لاَ شَرِيْكَ لَكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ] [صحیح الجامع: ۴۴۸۷]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 یعنی اہل جنت اللہ کی حمد و تسبیح میں ہر وقت تعریف کرتے رہیں گے۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ ' اہل جنت کی زبانوں پر تسبیح وتحمید کا اس طرح الہام ہوگا جس طرح سانس کا الہام کیا جاتا ہے، یعنی جس طرح بےاختیار سانس کی آمدورفت رہتی ہی، اسی طرح اہل جنت کی زبانوں پر بغیر اہتمام کے حمدو تسبیح الٰہی کے ترانے رہیں گے۔ 10۔ 2 یعنی ایک دوسرے کو اس طرح سلام کریں گے، نیز فرشتے بھی انہیں سلام عرض کریں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ وہاں ان کی پکار یہ ہو گی ”اے اللہ [14] تو پاک ہے“ اور ان کی آپس میں دعا [15] ہو گی ”تم پر سلامتی ہو“ اور ان کا خاتمہ کلام یہ ہو گا کہ ”سب طرح کی تعریف [16] اس اللہ کے لئے ہے جو سب جہانوں کا پروردگار ہے
[14] یعنی جب اہل جنت کو جب کسی چیز کی خواہش یا طلب ہو گی تو وہ براہ راست اس خواہش کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ بلکہ اس کی بجائے سبحانک اللھم یا سبحان اللہ کہیں گے تو فرشتے ان کی خواہش کے مطابق وہ چیز حاضر کر دیں گے۔ دنیا میں بھی مہذب معاشرہ میں یہ دستور چلتا ہے کہ جب کوئی مہمان کسی چیز کو پسند کر کے صرف اس چیز کی تعریف کر دے تو غیور میزبان کوشش کرتا ہے کہ وہ چیز اس مہمان کو ہدیہ کر دے۔ [15] جیسا کہ اس دنیا میں بھی انہیں ایک دوسرے کو سلام کہنے کی عادت تھی اور ملاقات کے وقت سلام کا یہ طریقہ اللہ کے ہاں اتنا پسندیدہ ہے کہ فرشتے بھی اہل جنت کو سلام کہیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ خود بھی انہیں سلام کہا کریں گے جیسا کہ سورۃ یٰسین کی آیت نمبر 58 ﴿سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ﴾ میں مذکور ہے۔
[16] یعنی جب اہل جنت کی خواہش کی اشیاء انہیں مہیا کر دی جائیں گی اور وہ ان سے استفادہ کر لیں گے یا آپس میں سلام و دعا کے بعد محو گفتگو ہوں گے ان کا آخری طرز عمل یا اختتام یہ ہو گا کہ وہ اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہو جائیں گے جس سے وہ دنیا میں مانوس تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
خوش انجام خوش نصیب لوگ ٭٭
نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے جو اللہ پر ایمان لائے رسولوں کو مانا، فرمانبرداری کی نیکیوں پر چلتے رہے، انہیں ان کے ایمان کی وجہ سے راہ مل جائے گی۔ پل صراط سے پار ہو جائیں گے۔ جنت میں پہنچ جائیں گے، نور مل جائے گا، جس کی روشنی میں چلیں پھریں گے۔
پس ممکن ہے کہ «بِإِيمَانِهِمْ» میں (ب) سبب کی ہو، اور ممکن ہے کہ استعانت کی ہو۔ ان کے اعمال اچھی بھلی صورت اور عطر و خوشبو بن کر ان کے پاس ان کی قبر میں آئیں گے اور انہیں خوشخبری دیں گے یہ پوچھیں گے کہ تم کون ہو؟ وہ جواب دیں گے تمہارے نیک اعمال۔ پس یہ اپنے ان نورانی عمل کی روشنی میں جنت میں پہنچ جائیں گے اور کافروں کا عمل نہایت بدصورت، بدبو دار ہو کر اس پر چمٹ جائے گا اور اسے دھکے دے کر جہنم میں لے جائے گا۔ یہ جو چیز کھانا چاہیں گے اسی وقت فرشتے اس تیار کر کے لائیں گے۔ انہیں سلام کہیں گے جو جواب دیں گے اور کھائیں گے۔ کھا کر اپنے رب کی حمد بیان کریں گے۔
ان کے صرف «سبْحانَك اللَّهُمّ» کہتے ہی دس ہزار خادم اپنے ہاتھوں میں سونے کے کٹوروں میں کھانا لے کر حاضر ہو جائیں گے اور یہ سب میں سے کھائے گا۔ ان کا آپس میں بھی تحفہ سلام ہو گا۔ «تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَـمٌ» ۱؎ [33-الأحزاب:44] ’ جس دن یہ اللہ سے ملاقات کریں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا ‘، «لاَ يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْواً وَلاَ تَأْثِيماً» [56-الواقعة:25،26] ’ نہ وہاں بکواس سنیں گے اور نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی آواز ہو گی وہاں کوئی لغو بات کانوں میں نہ پڑے گی ‘۔
در و دیوار سے سلامتی کی آوازیں آتی رہیں گے۔ رب رحیم کی طرف سے بھی سلامتی کا قول ہوگا۔ «سَلاَمٌ قَوْلاً مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» ۱؎ [36-يس:58] ’ مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا ‘۔
پس ممکن ہے کہ «بِإِيمَانِهِمْ» میں (ب) سبب کی ہو، اور ممکن ہے کہ استعانت کی ہو۔ ان کے اعمال اچھی بھلی صورت اور عطر و خوشبو بن کر ان کے پاس ان کی قبر میں آئیں گے اور انہیں خوشخبری دیں گے یہ پوچھیں گے کہ تم کون ہو؟ وہ جواب دیں گے تمہارے نیک اعمال۔ پس یہ اپنے ان نورانی عمل کی روشنی میں جنت میں پہنچ جائیں گے اور کافروں کا عمل نہایت بدصورت، بدبو دار ہو کر اس پر چمٹ جائے گا اور اسے دھکے دے کر جہنم میں لے جائے گا۔ یہ جو چیز کھانا چاہیں گے اسی وقت فرشتے اس تیار کر کے لائیں گے۔ انہیں سلام کہیں گے جو جواب دیں گے اور کھائیں گے۔ کھا کر اپنے رب کی حمد بیان کریں گے۔
ان کے صرف «سبْحانَك اللَّهُمّ» کہتے ہی دس ہزار خادم اپنے ہاتھوں میں سونے کے کٹوروں میں کھانا لے کر حاضر ہو جائیں گے اور یہ سب میں سے کھائے گا۔ ان کا آپس میں بھی تحفہ سلام ہو گا۔ «تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَـمٌ» ۱؎ [33-الأحزاب:44] ’ جس دن یہ اللہ سے ملاقات کریں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا ‘، «لاَ يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْواً وَلاَ تَأْثِيماً» [56-الواقعة:25،26] ’ نہ وہاں بکواس سنیں گے اور نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی آواز ہو گی وہاں کوئی لغو بات کانوں میں نہ پڑے گی ‘۔
در و دیوار سے سلامتی کی آوازیں آتی رہیں گے۔ رب رحیم کی طرف سے بھی سلامتی کا قول ہوگا۔ «سَلاَمٌ قَوْلاً مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» ۱؎ [36-يس:58] ’ مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا ‘۔
فرشتے بھی ہر ایک دروازے سے آ کر سلام کریں گے، «وَالمَلَـئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِّن كُلِّ بَابٍسَلَـمٌ عَلَيْكُمُ» ۱؎ [13-الرعد:23، 24] ’ ان کے پاس فرشتے ہر دروازے سے آئیں گے، کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو ‘، آخری قول ان کا اللہ کی ثناء ہوگا۔ وہ معبود برحق ہے اول آخر حمد و تعریف کے سزاوار ہے۔ اسی لیے اس نے اپنی حمد بیان فرمائی مخلوق کی پیدائش کے شروع میں، اس کی بقاء میں، اپنی کتاب کے شروع میں، اور اس کے نازل فرمانے کے شروع میں۔
اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں ایک نہیں کئی ایک ہیں جیسے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَـبَ» ۱؎ [18-الكهف:1] ’ تمام تعریفیں اسی اللہ کے لیے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا ‘۔
«الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِى خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْض» ۱؎ [6-الأنعام:1] ’ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ‘، وغیرہ۔ وہی اول آخر دنیا عقبیٰ میں لائق حمد و ثناء ہے ہر حال میں اس کی حمد ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ { اہل جنت سے تسبیح و حمد اس طرح ادا ہوگی جیسے سانس چلتا رہتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2835]
یہ اس لیے کہ ہر وقت نعمتیں راحتیں آرام اور آسائش بڑھتا ہوا دیکھیں گے پس لامحالہ حمد ادا ہوگی۔ سچ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی پالنہار ہے۔
اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں ایک نہیں کئی ایک ہیں جیسے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَـبَ» ۱؎ [18-الكهف:1] ’ تمام تعریفیں اسی اللہ کے لیے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا ‘۔
«الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِى خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْض» ۱؎ [6-الأنعام:1] ’ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ‘، وغیرہ۔ وہی اول آخر دنیا عقبیٰ میں لائق حمد و ثناء ہے ہر حال میں اس کی حمد ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ { اہل جنت سے تسبیح و حمد اس طرح ادا ہوگی جیسے سانس چلتا رہتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2835]
یہ اس لیے کہ ہر وقت نعمتیں راحتیں آرام اور آسائش بڑھتا ہوا دیکھیں گے پس لامحالہ حمد ادا ہوگی۔ سچ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی پالنہار ہے۔