تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ:} جنت کی نہروں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ محمد (۱۵)۔
➌ {فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ:} ان نعمتوں کی تفصیل بیان میں نہیں آ سکتی، فرمایا: «{ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ }» [السجدۃ: ۱۷] ”پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَقُوْلُ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِيْنَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰي قَلْبِ بَشَرٍ] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب صفۃ الجنۃ:2824/4، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ]”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل پر اس کا خیال ہی گزرا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس ممکن ہے کہ «بِإِيمَانِهِمْ» میں (ب) سبب کی ہو، اور ممکن ہے کہ استعانت کی ہو۔ ان کے اعمال اچھی بھلی صورت اور عطر و خوشبو بن کر ان کے پاس ان کی قبر میں آئیں گے اور انہیں خوشخبری دیں گے یہ پوچھیں گے کہ تم کون ہو؟ وہ جواب دیں گے تمہارے نیک اعمال۔ پس یہ اپنے ان نورانی عمل کی روشنی میں جنت میں پہنچ جائیں گے اور کافروں کا عمل نہایت بدصورت، بدبو دار ہو کر اس پر چمٹ جائے گا اور اسے دھکے دے کر جہنم میں لے جائے گا۔ یہ جو چیز کھانا چاہیں گے اسی وقت فرشتے اس تیار کر کے لائیں گے۔ انہیں سلام کہیں گے جو جواب دیں گے اور کھائیں گے۔ کھا کر اپنے رب کی حمد بیان کریں گے۔
ان کے صرف «سبْحانَك اللَّهُمّ» کہتے ہی دس ہزار خادم اپنے ہاتھوں میں سونے کے کٹوروں میں کھانا لے کر حاضر ہو جائیں گے اور یہ سب میں سے کھائے گا۔ ان کا آپس میں بھی تحفہ سلام ہو گا۔ «تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَـمٌ» ۱؎ [33-الأحزاب:44] ’ جس دن یہ اللہ سے ملاقات کریں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا ‘، «لاَ يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْواً وَلاَ تَأْثِيماً» [56-الواقعة:25،26] ’ نہ وہاں بکواس سنیں گے اور نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی آواز ہو گی وہاں کوئی لغو بات کانوں میں نہ پڑے گی ‘۔
در و دیوار سے سلامتی کی آوازیں آتی رہیں گے۔ رب رحیم کی طرف سے بھی سلامتی کا قول ہوگا۔ «سَلاَمٌ قَوْلاً مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» ۱؎ [36-يس:58] ’ مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا ‘۔
اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں ایک نہیں کئی ایک ہیں جیسے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَـبَ» ۱؎ [18-الكهف:1] ’ تمام تعریفیں اسی اللہ کے لیے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا ‘۔
«الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِى خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْض» ۱؎ [6-الأنعام:1] ’ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ‘، وغیرہ۔ وہی اول آخر دنیا عقبیٰ میں لائق حمد و ثناء ہے ہر حال میں اس کی حمد ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ { اہل جنت سے تسبیح و حمد اس طرح ادا ہوگی جیسے سانس چلتا رہتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2835]
یہ اس لیے کہ ہر وقت نعمتیں راحتیں آرام اور آسائش بڑھتا ہوا دیکھیں گے پس لامحالہ حمد ادا ہوگی۔ سچ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی پالنہار ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات}؛ أي: جمعوا بين الإيمان والقيام بموجبه ومقتضاه من الأعمال الصالحة، المشتملة على أعمال القلوب وأعمال الجوارح، على وجه الإخلاص والمتابعة. {يهديهم ربُّهم بإيمانهم}؛ أي: بسبب ما معهم من الإيمان يُثيبهم الله أعظم الثواب، وهو الهداية، فيُعَلِّمهم ما ينفعهم، ويَمُنُّ عليهم بالأعمال الناشئة عن الهداية، ويهديهم للنظر في آياته، ويهديهم في هذه الدار إلى الصراط المستقيم، وفي الصراط المستقيم، وفي دار الجزاء إلى الصراط الموصل إلى جنات النعيم، ولهذا قال: {تجري من تحتِهِمُ الأنهارُ}: الجارية على الدوام. {في جنات النعيم}: أضافها الله إلى النعيم لاشتمالها على النعيم التامِّ؛ نعيم القلب بالفرح والسرور والبهجة والحبور ورؤية الرحمن وسماع كلامه والاغتباط برضاه وقربه ولقاء الأحبَّة والإخوان والتمتُّع بالاجتماع بهم وسماع الأصوات المطربات والنغمات المشجيات والمناظر المفرحات، ونعيم البدن بأنواع المآكل والمشارب والمناكح ونحو ذلك مما لا تعلمه النفوس ولا خطر ببال أحدٍ، أو قدر أن يصِفَه الواصفون.