سنن ترمذي
كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الثُّومِ مَطْبُوخًا باب: پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1808
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ وَالِدُ وَكِيعٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ : " نُهِيَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا " .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` لہسن کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: پکنے سے اس میں پائی جانے والی بو ختم ہو جاتی ہے، اس لیے اسے کھا کر مسجد جانے میں کوئی حرج نہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لہسن کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1808]
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لہسن کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1808]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎: پکنے سے اس میں پائی جانے والی بو ختم ہوجاتی ہے، اس لیے اسے کھا کر مسجد جانے میں کوئی حرج نہیں۔
نوٹ:
(سند میں ابواسحاق سبیعی مختلط اورمدلس راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، الإرواء: 2512)
وضاحت: 1؎: پکنے سے اس میں پائی جانے والی بو ختم ہوجاتی ہے، اس لیے اسے کھا کر مسجد جانے میں کوئی حرج نہیں۔
نوٹ:
(سند میں ابواسحاق سبیعی مختلط اورمدلس راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، الإرواء: 2512)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1808 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1809 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان۔`
شریک بن حنبل سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ لہسن کھانا مکروہ سمجھتے تھے، سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1809]
شریک بن حنبل سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ لہسن کھانا مکروہ سمجھتے تھے، سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1809]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ا بوا سحاق سبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں)
نوٹ:
(سند میں ا بوا سحاق سبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1809 سے ماخوذ ہے۔