کتب حدیث › سنن ترمذي › ابواب › باب: پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان۔
❮
❯
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ وَالِدُ وَكِيعٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ : " نُهِيَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` لہسن کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: پکنے سے اس میں پائی جانے والی بو ختم ہو جاتی ہے، اس لیے اسے کھا کر مسجد جانے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1808
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (2512) , شیخ زبیر علی زئی: (1808) إسناده ضعيف / د 3828
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأطعمة 41 (3828) ، ( تحفة الأشراف : 10127) (صحیح) (سند میں ابواسحاق سبیعی مختلط اور مدلس راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، الإرواء: 2512)»
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : " لَا يَصْلُحُ أَكْلُ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ عَلِيٍّ قَوْلُهُ ، وَرُوِي عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا ، قَالَ مُحَمَّدٌ الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ صَدُوقٌ ، وَالْجَرَّاحُ بْنُ الضَّحَّاكِ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شریک بن حنبل سے روایت ہے کہ` علی رضی الله عنہ لہسن کھانا مکروہ سمجھتے تھے ، سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ، یہ علی رضی الله عنہ کا قول ہے ،
۲- شریک بن حنبل کے واسطہ سے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے بھی آئی ہے ،
۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : راوی جراح بن ملیح صدوق ہیں اور جراح بن ضحاک مقارب الحدیث ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1809
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الإرواء (2512) , شیخ زبیر علی زئی: (1809) إسناده ضعيف موقوف, أبو إسحاق عنعن (تقدم: 107) واختلط ولا يعرف سماع الجراح منه : أقبل اختلاطه أم بعد؟
تخریج حدیث «( تحفة الأشراف : 10127) (ضعیف) (سند میں ابو اسحاق سبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں)»
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أُمَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَزَلَ عَلَيْهِمْ فَتَكَلَّفُوا لَهُ طَعَامًا فِيهِ مِنْ بَعْضِ هَذِهِ الْبُقُولِ فَكَرِهَ أَكْلَهُ " ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " كُلُوهُ فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، وَأُمُّ أَيُّوبَ هِيَ امْرَأَةُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام ایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ہجرت کے بعد ) ان کے گھر ٹھہرے ، ان لوگوں نے آپ کے لیے پرتکلف کھانا تیار کیا جس میں کچھ ان سبزیوں ( گندنا وغیرہ ) میں سے تھی ، چنانچہ آپ نے اسے کھانا ناپسند کیا اور صحابہ سے فرمایا : ” تم لوگ اسے کھاؤ ، اس لیے کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میں ڈرتا ہوں کہ میں اپنے رفیق ( جبرائیل ) کو تکلیف پہچاؤں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ،
۲- ام ایوب ابوایوب انصاری کی بیوی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1810
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (3364)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الأطعمة 59 (3364) ، ( تحفة الأشراف : 18304) (حسن)»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ : " الثُّومُ مِنْ طَيِّبَاتِ الرِّزْقِ " ، وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَسَمِعَ مِنْهُ وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ رُفَيْعٌ هُوَ الرِّيَاحِيُّ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كَانَ أَبُو خَلْدَةَ خِيَارًا مُسْلِمًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ` لہسن حلال رزق ہے ۔ ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے ، وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں ، انہوں نے انس بن مالک سے ملاقات کی ہے اور ان سے حدیث سنی ہے ، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے اور یہ رفیع ریاحی ہیں ، عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں : ابوخلدہ ایک نیک مسلمان تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1811
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: (1811) إسناده ضعيف, محمد بن حميد ضعيف ( تقدم:85)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، ( تحفة الأشراف : 18646) (ضعیف الإسناد) (سند میں محمد بن حمید رازی ضعیف راوی ہیں)»