سنن ترمذي
كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي أَكْلِ الثَّمَرَةِ لِلْمَارِّ بِهَا باب: راہی کے لیے راستہ کے درخت کا پھل کھانے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1288
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ : كُنْتُ أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ ، فَأَخَذُونِي ، فَذَهَبُوا بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَافِعُ ، لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْجُوعُ ، قَالَ : " لَا تَرْمِ ، وَكُلْ مَا وَقَعَ أَشْبَعَكَ اللَّهُ وَأَرْوَاكَ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں انصار کے کھجور کے درختوں پر پتھر مارتا تھا ، ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے آپ نے پوچھا : ” رافع ! تم ان کے کھجور کے درختوں پر پتھر کیوں مارتے ہو ؟ “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بھوک کی وجہ سے ، آپ نے فرمایا : ” پتھر مت مارو ، جو خودبخود گر جائے اسے کھاؤ اللہ تمہیں آسودہ اور سیراب کرے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´راہی کے لیے راستہ کے درخت کا پھل کھانے کی رخصت کا بیان۔`
رافع بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں انصار کے کھجور کے درختوں پر پتھر مارتا تھا، ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے آپ نے پوچھا: ” رافع! تم ان کے کھجور کے درختوں پر پتھر کیوں مارتے ہو؟ “ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بھوک کی وجہ سے، آپ نے فرمایا: ” پتھر مت مارو، جو خودبخود گر جائے اسے کھاؤ اللہ تمہیں آسودہ اور سیراب کرے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1288]
رافع بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں انصار کے کھجور کے درختوں پر پتھر مارتا تھا، ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے آپ نے پوچھا: ” رافع! تم ان کے کھجور کے درختوں پر پتھر کیوں مارتے ہو؟ “ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بھوک کی وجہ سے، آپ نے فرمایا: ” پتھر مت مارو، جو خودبخود گر جائے اسے کھاؤ اللہ تمہیں آسودہ اور سیراب کرے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1288]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’صالح‘‘ اوران کے باپ ’’ابوجبیر‘‘ دونوں مجہول ہیں، اور ابوداؤد وابن ماجہ کی سند میں ’’ابن ابی الحکم‘‘ مجہول ہیں نیز ان کی دادی مبہم ہیں)
نوٹ:
(سند میں ’’صالح‘‘ اوران کے باپ ’’ابوجبیر‘‘ دونوں مجہول ہیں، اور ابوداؤد وابن ماجہ کی سند میں ’’ابن ابی الحکم‘‘ مجہول ہیں نیز ان کی دادی مبہم ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1288 سے ماخوذ ہے۔