کتب حدیثالسنن المأثورةابوابباب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 117
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُصَلِّ مَا شَاءَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کو جماعت کروائے تو ہلکی کروائے کیونکہ مقتدیوں میں بیمار، کمزور اور بڑی عمر کے لوگ ہوتے ہیں اور جب اکیلے میں نماز پڑھ رہا ہو تو جیسے جی چاہے پڑھے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 117
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب اذا صلى لنفسه فليطول ماشاء، رقم: 703 ، صحیح مسلم، الصلاة، باب امر الائمة بتخفيف الصلاة في تمام، رقم : 467۔
حدیث نمبر: 118
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ ، قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَؤُمَّ النَّاسَ وَأَنْ أُقَدِّرَهُمْ بِأَضْعَفِهِمْ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَالسَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں لوگوں کو امامت کراؤں تو ان کے کمزوروں کا خیال رکھوں کیونکہ ان میں بوڑھے، بیمار، کمزور اور حاجت مند ہوتے ہیں۔
وضاحت:
➊ لوگوں کو جماعت کراتے ہوئے ہلکی اور کامل یعنی رکوع و سجود اطمینان سے لیکن قرأت کم چھوٹی سورتیں پڑھ کر جماعت کرائی جائے، اور جب آدمی اکیلا پڑھے تو جتنا مرضی لمبا قیام کرے آج کل کے ائمہ چونکہ آوازوں کے سُر لگانے پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں اس لیے لوگوں کو تو خوب لمبی نماز پڑھاتے ہیں تاکہ لوگ زیادہ سنیں اور جب اکیلے پڑھتے ہیں تو تلاوت قرآن کے سارے فضائل بھول کر سورہ اخلاص پر اکتفا کرتے ہیں جو کہ قابل ملامت ہے۔ سختی لوگوں پر نہیں اپنے ڈھانچے پر کریں بعض دفعہ لوگوں کی تربیت کی نسبت اپنی تربیت زیادہ ضروری ہوتی ہے۔
➋ ان احادیث سے امام بخاری رحمہ اللہ نے چند مسائل استنباط کیے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں: (الف) امام کو چاہیے قیام ہلکا کرے لیکن رکوع و سجود میں اتمام ہو۔
(ب) استاد شاگردوں کی جب کوئی ناگوار بات دیکھے تو وعظ کرے۔
(ج) استاد تعلیم دیتے وقت شاگردوں پر خفا ہو سکتا ہے۔
(د) جب اکیلا نماز پڑھے تو قرآت و قیام طویل کر سکتا ہے۔
(ذ) امام سے طوالت کی شکایت کی جا سکتی ہے۔ کچھ تخفیف کریں بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔ یہ امام بخاری رحمہ اللہ کی فقاہت ہے جس کا مقابلہ فرضی مسائل سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ اس بات کی دلیل ہے کہ اماموں کو مقتدیوں کا خیال رکھنا چاہیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دورانِ امامت عورتوں کا بھی خیال رکھتے بچہ روتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ہلکی کر دیتے کہ اس کی ماں تکلیف محسوس نہ کرے۔ [البخاری: 708]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 118
تخریج حدیث سنن ابن ماجه، الصلاة، باب من ام قوما فليخفف، رقم : 987 وقال الالبانی: حسن صحیح سنن ابی داؤد، الصلاة، باب اخذ الاجر على التأذين، رقم : 531۔
حدیث نمبر: 119
وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " ، قَالَ : " وَشَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَتْ : يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ حَرِّهَا ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ”جب گرمی شدت پکڑ جائے تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔“ اور فرمایا: ”جہنم نے رب سے شکایت کی کہنے لگی اے پروردگار! میرے بعض حصے نے دوسرے کو کھا لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک سانس سردی میں لیتی ہے اور ایک گرمی میں، جو تم انتہائی گرمی اور انتہائی سردی محسوس کرتے ہو وہ اسی سے پیدا ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 119
تخریج حدیث صحیح بخاری، مواقیت الصلاة، باب الابراد بالظهر في شدة الحر، رقم: 536، 537، صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب الابراد بالظهر في شدة الحر، رقم: 615
حدیث نمبر: 120
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " وَذَكَرَ أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِّهَا فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ نَفْسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب گرمی ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر لو بے شک گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے“ اور تذکرہ فرمایا : کہ آگ نے اپنے رب سے شکوہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت بخشی ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 120
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب الابراد بالظهر في شدة الحر، رقم: 617
حدیث نمبر: 121
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب گرمی سخت ہو نماز ٹھنڈی کر لو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ ہے۔“
وضاحت:
➊ دین میں آسانیاں ہیں گرمی کی شدت میں نماز ظہر کو تھوڑا مؤخر کر لینا چاہیے لیکن یہ نہ ہو کہ عصر کا وقت ہو جائے، سایہ ایک مثل ہونے سے پہلے پہلے پڑھ لینی چاہیے۔
➋ جہنم سے متعلقہ باتیں باطنی امور ہیں جن پر ایمان لانا لازم ہے۔
➌ ایک قول یہ ہے کہ جہنم اندر سانس کھینچتی ہے تو زمین سرد ہو جاتی ہے اور جب سانس باہر نکالتی ہے تو گرم ہو جاتی ہے یعنی جیسے جیسے اللہ کی زمین پر اس کی سانس پہنچتی ہے تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اخبار قطعی و حتمی ہیں جبکہ سائنس کے اندازے حتمی نہیں، ایک صدی کا سائنس دان ایک دعویٰ کرتا ہے تو اگلی صدی میں وہ نظریہ غلط ثابت ہو جاتا ہے۔
➍ یہ بھی ممکن ہے کہ جہنم کے بعض حصے انتہائی گرم اور بعض انتہائی سرد ہوں، وہاں سے سانس پہنچتی ہو۔ جہنم «اسفل السافلين» ہے، جیالوجی تسلیم کرتی ہے کہ زمین کے نیچے یا سمندر کے نیچے آگ ہے جہاں لوہا پانی بن جاتا ہے، مؤمن ایمان بالغیب کا پابند ہے، انسان کی عقل ناقص اور شریعت کامل ہے۔
➎ جس نے جہنم پیدا کی وہ زیادہ جانتا ہے کہ اس کی سانس کہاں اور کیسے اور کس طرح پہنچتی ہے۔ موجودہ دور کے بے عقل رویبضہ تجزیہ نگار کی شریعت فہمی کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں جس کے نزدیک نیوز پیپر اصل اور قرآن و سنت اس کے تابع ہے، وہ امت کے مسائل کے کیا فیصلے کر پائے گا؟
➏ جنت و جہنم دونوں اللہ کی نعمتیں ہیں جن کا تعارف کتاب و سنت نے پیش کر کے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔
➐ اس حدیث سے جہنم کا کلام کرنا بھی ثابت ہوتا ہے۔
➑ جہنم کی گرمی سے بچنے کے لیے ہر انسان کو ہر تدبیر کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 121
تخریج حدیث سنن ابن ماجہ، الصلاة، باب الابراد بالظهر في شدة الحر، رقم: 677 وقال الالبانی: صحیح، مسند احمد: 16/38، رقم: 9956 وقال الارنؤوط: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین
حدیث نمبر: 122
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي صَلاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بے شک نبی اکرم ﷺ اپنی رات کی نماز پڑھتے تھے اور میں آپ ﷺ کے درمیان اور قبلہ کے درمیان جنازے کی طرح پڑی ہوتی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 122
تخریج حدیث صحیح مسلم، الصلاة، باب الاعتراض بين يدی المصلی، رقم: 512
حدیث نمبر: 123
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلايَ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا ، قَالَتْ : وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سو جاتی میری ٹانگیں آپ کے قبلہ کی سمت میں ہوتیں جب آپ ﷺ سجدہ کرنے لگتے مجھے دباتے تو میں ٹانگیں پیچھے کر لیتی جب آپ سجدوں سے کھڑے ہو جاتے تو میں ٹانگیں دوبارہ بچھا لیتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 123
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصلاة، باب الصلاة علی الفراش، رقم: 382، صحیح مسلم، الصلاة، باب الاعتراض بين يدی المصلی، رقم: 512
حدیث نمبر: 124
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أَنَامُ مُعْتَرِضَةً فِي الْقِبْلَةِ فَيُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَمَامَهُ حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ ، قَالَ : " تَنَحِّي " .
نوید مجید طیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے تو میں ان کے آگے قبلہ کے درمیان حائل سوئی ہوتی تو جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو فرماتے : ”تھوڑا پیچھے ہو جاؤ۔“
وضاحت:
➊ معلوم ہوا کہ اگر آگے کوئی لیٹا، بیٹھا یا کھڑا ہو تو اس کا حکم گزرنے والے کی طرح نہیں، جبکہ نماز کے آگے سے گزرنا سخت گناہ ہے۔ بعض نے کہا دو صفیں چھوڑ کر گزر سکتا ہے، منع متصل آگے سے گزرنا ہے یعنی جس جگہ نمازی نے سجدہ کرنا ہے کیونکہ نمازی ساری مسجد کا مالک نہیں بن گیا۔ یہ قول محل نظر ہے، بغیر رکاوٹ و سترہ کے گزرنے سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ واللہ اعلم۔
➋ حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا تنگ تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹتیں تو ان کی ٹانگیں اس جگہ ہوتیں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کرنا ہوتا تو ہاتھ سے متنبہ کر دیتے کہ سجدہ کا وقت ہو گیا ہے ٹانگیں سمیٹ لو۔
➌ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عورت کو محض ہاتھ لگانے سے وضو یا نماز میں خلل نہیں پڑتا۔ ان دنوں غربت کے باعث گھروں میں چراغ نہیں تھے کہ روشنی ہوتی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جان جاتیں اور خود ہی پاؤں سمیٹ لیتیں۔
➍ گھروں میں قیام اللیل اور نوافل کا اہتمام کرنا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 124
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصلاة، باب من قال المرأة لا تقطع الصلاة، رقم: 714 وقال الالبانی: حسن صحیح
حدیث نمبر: 125
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ ، عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ وَدَخَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ فَلَمْ يَقُلْ لَنَا شَيْئًا " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما گدھی پر آئے رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا رہے تھے ہم گدھی سمیت بعض صف کے آگے سے گزرے گدھی سے اترے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے آپ ﷺ نے ہمیں کچھ نہیں کہا تھا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 125
تخریج حدیث صحیح مسلم، الصلاة، باب سترة المصلی، رقم: 504
حدیث نمبر: 126
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاحْتِلامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّلاةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ " .
نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں گدھی پر سوار ہو کر آیا اس وقت میں بلوغت کے قریب تھا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو منی میں جماعت کروا رہے تھے میں آپ ﷺ کے سامنے بعض صف کے آگے سے گزرا گدھی سے اترا گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں شامل ہو گیا مجھ پر پوری جماعت میں سے کسی ایک نے بھی اعتراض نہ کیا۔
وضاحت:
➊ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں بھائی گدھی پر سوار ہو کر آئے۔ یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے، صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منی میں نماز پڑھا رہے تھے جبکہ سنن نسائی میں ہے کہ عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے، یعنی یہ حجۃ الوداع میں ہوا۔ چونکہ سفر گدھی پر کر رہے تھے، منی سے عرفہ اور عرفہ سے منی بھی سواری پر ہی آئے ہوں گے، دونوں جگہ ایسے ہی کیا ہو گا؛ ایک میں ساتھ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے ایک میں صرف اپنا ذکر کرتے ہیں۔
➋ امام مقتدیوں کا سترہ ہوتا ہے، بعض صف کے آگے سے گزرا جا سکتا ہے لیکن پوری صف کے آگے سے امام کو بھی منقطع کرتے ہوئے گزرنا اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔ عرب کے بدو پوری پوری صف کاٹ جاتے ہیں، جب ان کو روکا جائے تو یہ حدیث بطور دلیل پیش کرتے ہیں جبکہ یہ حدیث بعض صف کے کاٹنے پر دلالت کرتی ہے۔
➌ امام مقتدیوں کا سترہ ہے لہٰذا امام اور مقتدیوں کے درمیان سے نہیں گزر سکتا۔ بغیر سترے کے اگر نمازی کے سامنے سے یعنی سجدہ کی جگہ سے عورت، گدھا یا کالا کتا گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
➍ گدھے پر سواری شرعاً جائز ہے۔
➎ نماز با جماعت کھڑی ہو تو بعد میں آنے والے نماز کے ساتھ شریک ہو جائیں گے۔
➏ نابالغ بچے کی بیان کردہ شرعی بات قابل حجت ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 126
تخریج حدیث صحیح بخاری، العلم، باب متی یصح سماع الصبی، رقم: 76، صحیح مسلم، الصلاة، باب سترة المصلی، رقم: 504
حدیث نمبر: 127
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، قَالَ : " أَشْهَدُ أنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " وَإِذَا قَالَ : أَشْهَدُ أنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : " وَأَنَا " ، ثُمَّ سَكَتَ . أ
نوید مجید طیب
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا جب مؤذن نے «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہا تو آپ ﷺ نے «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہا اور جب مؤذن نے «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ» کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور میں بھی رسالت کی گواہی دیتا ہوں“ پھر خاموش ہو گئے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 127
تخریج حدیث صحیح بخاری، الجمعة، باب يجيب الامام علی المنبر اذا سمع النداء، رقم: 914
حدیث نمبر: 128
َنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمِّهِ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يُحَدِّثُ مِثْلَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نوید مجید طیب
عیسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ سے یہی روایت بیان کرتے سنا۔
وضاحت:
➊ اذان کا جواب دیتے ہوئے جیسے جیسے کلمات مؤذن کہتا ہے اسی طرح کہا جائے گا، البتہ «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کی جگہ «لا حول ولا قوة الا بالله» پڑھا جائے گا۔
➋ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے منبر پر بیٹھ کر اذان کا جواب دیا پھر خطبہ میں یہ حدیث بیان کی۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کیا ہے کہ منبر پر بیٹھ کر بھی اذان کا جواب دیا جا سکتا ہے۔
➌ مزید مسائل اور فوائد کے لیے دیکھئے [شرح حدیث نمبر: 39]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 128
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب ما يقول اذا سمع المنادى، رقم: 612
حدیث نمبر: 129
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”(اگر امام بھول جائے) تو مردوں کے لیے سبحان اللہ کہنا ہے اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے۔“
وضاحت:
➊ امام اگر نماز میں بھول جائے مثلاً تشہد میں نہیں بیٹھنا تھا، بھول کر بیٹھ گیا وغیرہ تو مرد مقتدی «سبحان الله» کہے گا اور اگر مردوں میں سے کوئی بھی متنبہ نہیں ہوا تو عورت اپنی ہتھیلی دوسرے ہاتھ کی پشت پر مارے گی تاکہ امام کو پتا چلے کہ بھول گیا ہوں۔ ➋ اس حدیث کا پس منظر ہے جس کی تفصیل حدیث نمبر 130، 131 میں بیان ہوئی ہے۔
➌ اگر امام قراءت بھول جائے اور پیچھے مرد مقتدیوں میں سے کسی کو قرآن یاد نہ ہو لیکن عورت کو یاد ہو تو وہ بول کر لقمہ دے گی، بوقت ضرورت خاموش رہنا جائز نہیں۔ واللہ اعلم۔
➍ نسیان بنی آدم کی فطرت میں ہے لہٰذا یہ کوئی معیوب بات نہیں۔
➎ دوران نماز مقتدیوں کو یکسوئی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ امام کے بھول جانے پر اسے فوراً متنبہ کر سکیں۔
➏ عورت کو مردوں کی موجودگی میں حتی الوسع بولنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 129
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصلاة، باب التصفيق للنساء، رقم: 1203، صحیح مسلم، الصلاة، باب تسبيح الرجل وتصفيق المرأة، رقم: 422
حدیث نمبر: 130
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ ، فَحَانَتِ الصَّلاةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلاةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ ، فَصَفَّقَ النَّاسُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لا يَلْتَفِتُ فِي صَلاتِهِ ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " مَا مَنَعَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ ؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا كَانَ لابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لِيَ رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ ! مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ فَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف کے ہاں صلح کرانے گئے اور نماز کا وقت ہو گیا تو مؤذن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا میں اقامت کہوں آپ نماز پڑھائیں گے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھانا شروع کی کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے لوگ نماز میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی صف میں کھڑے ہو گئے لوگوں نے تالیاں بجائیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں دائیں بائیں نہ جھانکا کرتے تھے تو جب لوگوں نے زیادہ تالیاں بجانا شروع کیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے التفات کیا تو رسول اللہ ﷺ کو دیکھا رسول اللہ ﷺ نے اشارہ کیا کہ پڑھاتے رہو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ اٹھا کر رسول اللہ ﷺ کے حکم پر اللہ کی حمد کی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے آئے حتی کہ صف میں آکر کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے نماز پڑھائی جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ”اے ابوبکر! تجھے کس نے نماز پڑھانے سے روکا حالانکہ میں نے (اشارہ سے) کہا تھا پڑھاتے رہو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ابن ابی قحافہ کے لیے روا نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں امام بن جائے پھر لوگوں سے فرمایا : ”تمہیں کیا ہوا تالیاں ہی بجانے لگے جس کو نماز میں کوئی حاجت پیش آئے سبحان اللہ کہے جب وہ سبحان اللہ کہے گا امام متوجہ ہو جائے گا تالیاں عورتوں کے لیے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 130
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب من دخل ليؤم الناس فجاء الامام الاول، رقم: 684، صحیح مسلم، الصلاة، باب تقديم الجماعة من يصل بهم، رقم: 421
حدیث نمبر: 131
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ فَأَذَّنَ بِلالٌ ، فَاحْتَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ الَّذِي يَلِي أَبَا بَكْرٍ أَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيقِ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلا لا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلاةِ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْتَفَتَ فَأَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اثْبُتْ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَشَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ ؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا كَانَ ذَلِكَ لابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ انْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّاسِ فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ فِي صَلاتِكُمْ شَيْءٌ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيقِ ! إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ فَمَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلاتِهِ فَلْيَقُلْ : سُبْحَانَ اللَّهِ " .
نوید مجید طیب
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنی عمرو بن عوف کی صلح کرانے تشریف لے گئے نماز کا وقت ہو گیا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی رسول اللہ ﷺ لیٹ ہو گئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کی اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے صفوں سے گزرتے ہوئے پہلی صف میں کھڑے ہوئے لوگوں نے تالیاں بجائیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز خشوع سے پڑھنے والے (التفات کرنے والے نہ تھے) تالیوں کی وجہ سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ ﷺ پر نظر پڑی رسول اللہ ﷺ نے اشارہ کیا ”جاری رکھو“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سر آسمان کی طرف اٹھا کر اللہ کا شکر کیا الٹے پاؤں پیچھے ہوئے رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے جب نماز سے فارغ ہوئے فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے اشارہ کر دیا تھا کہ جاری رکھو پھر کیا مانع تھا؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ عرض پرداز ہوئے: ”ابن ابی قحافہ کے لیے کیسے روا ہے کہ آپ ﷺ کی موجودگی میں امام بن جائے؟“ پھر رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف پھرے اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہیں کیا ہوا جب نماز میں کوئی واقعہ رونما ہوا تالیاں بجانے لگے تالیاں عورتوں کے لیے ہیں مردوں کے لیے (ایسے موقعوں پر) سبحان اللہ کہنا ہے جس کو نماز میں کوئی حاجت پیش آئے سبحان اللہ کہے۔“
وضاحت:
➊ رعایا میں ناچاقی ہو جائے تو امام و حکمران کی ذمہ داری ہے کہ ان میں مفاہمت کا کردار ادا کرے۔
➋ راتب امام کی عدم موجودگی میں بھی نماز باجماعت وقت پر ادا ہونی چاہیے۔
➌ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر حاضری میں لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہی امام تسلیم کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام مرض میں آپ رضی اللہ عنہ کو ہی امت کا امام مقرر فرمایا تھا۔ امت نے اس حکم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جاری رکھا۔
➍ ثابت ہوا کہ جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حاضر ہو جائیں وہاں امتی مصلیٰ پر کھڑا ہونے کی جرات نہیں کرتا۔
➎ مزید مسائل اور فوائد کے لیے دیکھیے شرح حدیث نمبر 129۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 131
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصلاة، باب التصفيق للنساء، رقم: 684/1204؛ صحیح مسلم، الصلاة، باب تقديم الجماعة من يصلى بهم ... الخ: 421
حدیث نمبر: 132
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ ، وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ " ، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي ، وَقَالَ : وَأُرَاهُ قَالَ : فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ وَتَجْلِسُ فِي الْمِرْكَنِ فَيَعْلُوهُ الدَّمُ " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا استحاضہ کی مریضہ تھیں انہوں نے اس سے متعلق رسول اللہ ﷺ سے استفسار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ رگ کا خون ہے حیض کا خون نہیں (یعنی اس کے باعث نماز نہیں چھوڑنی)۔“ پھر وہ غسل کرتیں اور نماز پڑھتیں۔ راوی کا خیال ہے ہر نماز کے لیے غسل کرتیں اور ایک ٹپ میں بیٹھتیں تو پانی پر خون ظاہر ہو جاتا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 132
تخریج حدیث صحیح مسلم، الحيض، باب المستحاضة غسلها وصلاتها، رقم: 334
حدیث نمبر: 133
أَنْبَأَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ ، فَاشْتَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ ، وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلاةَ ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي " . قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاةٍ ثُمَّ تُصَلِّي ، وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى إِنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بنت جحش جو عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں وہ سات سال سے استحاضہ کی مریضہ تھیں انہوں نے اس بات کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا: ”یہ خون حیض کا خون نہیں بلکہ یہ ایک رگ کا خون ہے جب حیض کا خون آجائے تو نماز چھوڑ دے جب حیض ختم ہو غسل کر لے اور نماز پڑھ لے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں پھر نماز پڑھتیں اور اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک بڑے طشت میں بیٹھتیں تو پانی پر خون کی سرخی غالب آجاتی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 133
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الطهارة، باب من قال اذا قبلت الحيضة تدع الصلاة، رقم: 285؛ سنن نسائی، الطهارة، باب ذكر الاغتسال من الحيض: 203، وقال الالبانی: صحيح
حدیث نمبر: 134
أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَفْتَتْهُ فِيهِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَتْ ذَلِكَ بِالْحَيْضَةِ ، وَإِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي " ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاةٍ ، وَكَانَتْ تَجْلِسُ فِي مِرْكَنٍ فَيَعْلُو الْمَاءَ حُمْرَةُ الدَّمِ ، ثُمَّ تَخْرُجُ وَتُصَلِّي .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بنت جحش سات سال سے استحاضہ کی مریضہ تھیں تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا آپ ﷺ نے فتویٰ دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حیض کا خون نہیں یہ رگ کا خون ہے غسل کرو اور نماز پڑھو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر وہ ہر نماز کے لیے غسل فرماتی تھیں وہ ایک ٹپ میں بیٹھتیں تو خون کی سرخی پانی کے اوپر چڑھ آتی پھر نکل کر نماز ادا کرتیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 134
تخریج حدیث صحیح مسلم، الحيض، باب المستحاضة غسلها وصلاتها، رقم: 333
حدیث نمبر: 135
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاةَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلاةَ ، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي " .
نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں پاک نہیں رہتی ہوں، کیا نماز چھوڑ دوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(جس کو تم حیض سمجھ رہی ہو) یہ رگ کا خون ہے حیض نہیں جب حیض آئے اس وقت نماز چھوڑو اور اندازے کے مطابق اس کے دن گزر جائیں تو خون دھو ڈالو اور نماز پڑھ لو۔“
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 135
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحيض، باب الاستحاضة، رقم: 306؛ صحیح مسلم، الحيض، باب المستحاضة وغسلها وصلاتها، رقم: 333
حدیث نمبر: 136
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدِّمَاءَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لِتَنْظُرْ عِدَّةَ اللَّيَالِي وَالأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا فَلْتَتْرُكِ الصَّلاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ تُصَلِّي " . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : يَحَدِّثُنِي مَالِكٌ ، فَآخُذُ حَدِيثَ هِشَامٍ وَحَدِيثَ نَافِعٍ ، وَالْجَوَابُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدُلُّ عَلَى افْتِرَاقِ حَالِ فَإِذَا كَانَتْ لِلْمَرْأَةِ أَيَّامٌ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ مَعْرُوفَاتٌ ثُمَّ اسْتُحِيضَتْ وَكَانَتْ فِي أَيَّامِ دَمِهَا كُلِّهَا فِي حَالٍ وَاحِدَةٍ لا يَنْفَصِلُ دَمُهَا فَيَكُونُ مَرَّةً أَحْمَرَ قَانِيًا وَمَرَّةً أَصْفَرَ رَقِيقًا وَكَانَ مُشْتَبِهًا غَيْرَ مُنْفَصِلٍ نَظَرَتْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ فِي أَوَّلِ الشَّهْرِ كُنَّ أَوْ وَسَطِهِ أَوْ آخِرِهِ فَتَرَكَتِ الصَّلاةَ فِيهِنَّ لا تَزِيدُ عَلَيْهِنَّ سَاعَةً اسْتِظْهَارًا وَلا تَنْقُصُ مِنْهُنَّ سَاعَةً تَعْجِيلا ثُمَّ اغْتَسَلَتْ كَمَا تَغْتَسِلُ عِنْدَ طُهْرِهَا مِنَ الْحَيْضِ ثُمَّ صَلَّتْ وَصَامَتْ وَأَتَاهَا زَوْجُهَا إِنْ شَاءَ وَتَوَضَّأَتْ لِكُلِّ صَلاةٍ ، وَأَخْتَارُ لَهَا بِغَيْرِ إِيجَابٍ عَلَيْهَا أَنْ تَغْتَسِلَ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ وَلا تَدَعِ الْوُضُوءَ لِصَلاةٍ مَكْتُوبَةٍ حَضَرَتْ ثُمَّ تُصَلِّيَ النَّوَافِلَ بِهَذَا الْوُضُوءِ فَإِذَا حَضَرَتْ صَلاةٌ مَكْتُوبَةٌ اسْتَأْنَفَتْ لَهَا وَضُوءًا وَأُحِبُّ لَهَا لَوْ أَنَّهَا أَنْقَتْ فَرْجَهَا وَاحْتَشَتْ وَاسْتَثْفَرَتْ ثُمَّ تَوَضَّأَتْ فَإِنْ تَوَضَّأَتْ وَالدَّمُ سَائِلٌ وَهُوَ كَذَلِكَ فِي أَيَّامِهَا مَضَتْ عَلَى وَضُوئِهَا وَإِنْ كَانَ دَمُ الْمُسْتِحَاضَةِ يَنْفَصِلُ فَيَكُونُ فِي أَيَّامٍ مِنْ شَهْرِهَا أَحْمَرَ ثَخِينًا قَانِيًا كَثِيرًا وَفِي أَيَّامٍ أُخْرَى رَقِيقًا قَلِيلا مَائِلا إِلَى الصُّفْرَةِ فَالأَيَّامُ الَّتِي كَانَ الدَّمُ فِيهَا أَحْمَرَ قَانِيًا أَيَّامُ حَيْضَتِهَا وَالأَيَّامُ الَّتِي كَانَ فِيهَا رَقِيقًا أَصْفَرَ قَلِيلا أَيَّامُ اسْتِحَاضَتِهَا فَتَغْتَسِلُ عِنْدَ إِدْبَارِ الدَّمِ الْكَثِيرِ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاةٍ فِي أَيَّامِ الدَّمِ الْقَلِيلِ وَتَفْعَلُ كَمَا أُمِرَتِ الأُخْرَى تَفْعَلُ وَلا تَسْتَظْهِرْ وَاحِدَةٌ مِنْهُمَا بِسَاعَةٍ . وَهَكَذَا حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوَاءً فَأَمَّا حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ فَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ يُخَالِفُ هَذَا وَإِنَّمَا حَكَى أَنَّ الْمَرْأَةَ نَفْسَهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاةٍ وَتَجْلِسُ فِي مِرْكَنٍ وَلَمْ يَحْكِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا بِذَلِكَ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَإِنِ ابْتُدِئَتِ امْرَأَةٌ وَلا أَيَّامَ لَهَا قَبْلَ الابْتِدَاءِ فَاسْتُحِيضَتْ فَطَبَقَ عَلَيْهَا الدَّمُ غَيْرَ مُنْفَصِلٍ قُلْنَا : لَيْسَ يَجُوزُ أَنْ تَجْعَلِي أَيَّامَكِ أَيَّامَ أُمِّكِ وَلا أَخَوَاتِكِ وَلا تَجْعَلِي حُكْمَكِ فِي الصَّلاةِ إِلا حُكْمَ نَفْسِكِ فَاتْرُكِي الصَّلاةَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَقَلَّ مَا تَتْرُكُهُ حَائِضٌ رَأَيْنَاهَا وَذَلِكَ يَوْمٌ وَاحِدٌ فِي الشَّهْرِ ثُمَّ صَلِّي .
نوید مجید طیب
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت کو زمانہ نبوی میں بہت خونِ استحاضہ آتا تھا اس کے لیے رسول اللہ ﷺ سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مسئلہ پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مرض لگنے سے قبل وہ عورت دیکھ لے کہ اسے کتنے دن حیض آتا تھا اتنے دن شمار کر کے نماز چھوڑ دے، جب اتنے دن گزر جائیں تو غسل کرے پھر لنگوٹ باندھ لے اور نماز پڑھے۔“ مؤلف نے یہاں امام شافعی رحمہ اللہ کا فتویٰ ذکر کیا ہے کہ اگر عورت پہلے معروف ایام میں حائضہ ہوتی تھی پھر استحاضہ کی بیماری لگی خون جاری ہی رہتا ہے منفصل (جدا) نہیں ہوتا تو پہلے ایام حیض پر قیاس کر کے نماز روزہ کرے گی اس میں ایک گھنٹے کی بھی کمی بیشی نہیں کرے گی بلکہ غسل کر کے نماز پڑھے گی لیکن ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرے گی نوافل بھی پڑھ سکتی ہے لیکن اگلی فرضی نماز کے لیے تازہ وضو کرے۔ اگر استحاضہ کبھی روکتا بھی ہے تو وہ جب پتلا پیلے رنگ کا خون دیکھے وہ استحاضہ ہے اور جب خون سرخ زیادہ آئے تو وہ حیض ہوگا اس کے ختم ہونے پر غسل کرے ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرے استحاضہ میں نماز جاری رکھے۔ دونوں قسم کی عورتیں احتیاط کے نام پر ایک گھنٹہ بھی کمی بیشی نہ کریں بلکہ نماز، روزے اور مباشرت کے احکامات پر عمل کریں۔ وہ عورت جو ہر نماز کے لیے غسل کرتی اور ٹپ میں بیٹھنے کا ذکر ہوا ہے تو اسے غسل کا حکم رسول اللہ ﷺ نے نہیں دیا تھا وہ خود غسل کرتی تھی۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا : ایسی عورت جو ابتدا سے ہی استحاضہ میں مبتلا ہوگئی ہو اس کے ایام حیض معلوم ہی نہیں اور خونِ استحاضہ بھی جدا نہیں ہوتا تو ایسی عورت کو ہم اس کی ماں یا بہنوں پر قیاس نہیں کریں گے (کہ جتنے دن ان کو حیض آتا ہے اتنے اس کے شمار کر لیں) اس کا اپنا الگ حکم ہے وہ یہ کہ سب سے تھوڑی مدت ایام جو کہ حائضہ نماز چھوڑتی ہے وہ ایک دن ہے ایسی عورت ایک دن نماز چھوڑے گی پھر نماز پڑھے گی۔
وضاحت:
➊ عورت کو تین طرح کے خون آتے ہیں۔
(الف) خونِ حیض: یہ خون شروع کے ایام میں سیاہی مائل اور آخری ایام میں زردی مائل ہو جاتا ہے اور بدبودار ہوتا ہے۔ عموماً عورتیں ہر ماہ چھ یا سات دن اس میں مبتلا رہتی ہیں، یہ بیماری نہیں بلکہ صحت مند جوان عورت کو یہ خون آتا ہے جو جوانی کی علامت ہے۔ جب یہ خون آئے تو عورت نماز اور روزہ نہیں کرے گی نہ ہی اس حالت میں اس سے خاوند ہمبستری کر سکتا ہے۔ عورت حالتِ حیض میں رہ جانے والی نمازوں کی قضا نہیں دے گی لیکن حیض میں چھوڑے گئے روزوں کی قضا دے گی۔
(ب) خونِ نفاس: یہ بچے کی ولادت کے بعد آتا ہے، زیادہ سے زیادہ چالیس دن رہتا ہے، کم کی مقدار نہیں کسی وقت بھی ختم ہو سکتا ہے۔ اس کا حکم حیض کا حکم ہے کیونکہ یہ اصل میں حیض کا ہی خون ہوتا ہے۔ عورت حاملہ ہوتی ہے تو حیض آنا بند ہو جاتا ہے اور بچے کی غذا اسی خون سے ہوتی ہے۔ نو ماہ کے بعد جب یہ خون دوبارہ باہر آنا شروع ہوتا ہے تو چند دن قطروں کی شکل میں نکلتا رہتا ہے جو بعض دفعہ چالیس دن تک پہنچ جاتا ہے۔ اگر اس سے زیادہ دن آئے تو دمِ استحاضہ شمار ہو گا اور نماز روزہ شروع کر دیا جائے گا، لیکن ضروری نہیں کہ چالیس دن ہی رہے، ایک ہفتہ سے کم بھی ہو سکتا ہے۔ اگر پہلے ختم ہو گیا تو عورت نماز روزہ کرے، خاوند ہمبستری بھی کر سکتا ہے کیونکہ خون ختم ہو چکا ہے۔
(ج) دمِ استحاضہ: یہ عام خون کی طرح سرخ ہی رہتا ہے، اس کا رنگ تبدیل نہیں ہوتا۔ یہ بیماری کا خون ہے جو کسی رگ کے پھٹنے سے آنا شروع ہوتا ہے؛ یہی وہ خون ہے جو دوسرے خون میں مداخلت کر کے عورت کے ایام کو خلط ملط کر دیتا ہے اور دیندار عورت پریشان ہو جاتی ہے کہ نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں، پاک ہوئی یا نہیں۔ اس کا ذکر احادیث میں ہے۔ اس کی موجودگی نماز، روزے اور جماع میں مانع نہیں، عورت پاک ہے۔ یہ عورت روزے بھی رکھے گی اور نماز بھی پڑھے گی لیکن ہر نماز کے لیے تازہ وضو کر کے فرض و سنن نوافل ادا کرے گی، اگلی فرضی نماز کے لیے پھر تازہ وضو کرے گی۔
➋ استحاضہ والی عورت پر ہر نماز کے لیے غسل واجب نہیں بلکہ کسی بھی نماز کے لیے غسل واجب نہیں۔ متعدد رواۃِ حدیث کا کہنا ہے کہ سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا خود ایسا کرتی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم نہیں دیا تھا کیونکہ سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو بھی یہ بیماری تھی، ان کو بھی حکم نہیں دیا کہ ہر نماز کے لیے غسل کرو اور نہ ہی وہ غسل کرتی تھیں۔ بلکہ اسے فرمایا: «تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ» (ہر نماز کے لیے تازہ وضو کر لے)۔ [صحیح بخاری: 228]
➌ مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ استحاضہ والی عورت کے لیے غسل کرنا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حمنہ رضی اللہ عنہا کو اس کی وصیت فرمائی اور مشقت سے بچنے کے لیے افضل ہے کہ دن میں تین بار غسل کرے؛ نمازِ فجر کے لیے ایک غسل، ظہر و عصر کے لیے ایک غسل، اور مغرب و عشاء کے لیے ایک غسل۔
➍ حیض اور استحاضہ میں مندرجہ ذیل طریقوں سے فرق معلوم ہو سکتا ہے۔ اس کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب خون بند ہی نہ ہو یا مخصوص ایام کے علاوہ خون آجائے یا عادت خراب ہو جائے تو پہچان اس طرح ہو گی: (الف) عادت کے ذریعے: کہ ہر ماہ کتنے دن بعد حیض کا خون آتا تھا اور کتنے دن رہتا تھا، اتنے دن ہی شمار کر کے نماز چھوڑے گی، اس سے زائد ایام استحاضہ کے شمار ہوں گے۔
(ب) اگر عادت خراب ہو گئی ہو تو خون کو رنگ بو وغیرہ سے پہچان لیا جائے کیونکہ خونِ حیض گاڑھا، سیاہی مائل اور ختم کے قریب زردی مائل ہو جاتا ہے اور بدبودار ہوتا ہے۔ جبکہ استحاضہ پتلا، بسا اوقات قلیل مقدار میں ہوتا ہے اور اس کا رنگ سرخ ہی رہتا ہے، تبدیل نہیں ہوتا۔
(ج) اگر اس سے بھی تمیز نہیں ہو رہی تو سوچ و بچار کے بعد غالب گمان پر عمل کرے، کسی سمجھدار عورت سے مشورہ کرے یا چیک کروا لے۔
(د) اگر ایسا بھی ممکن نہیں تو اپنی ہم عمر اور جسمانی طور پر ملتی جلتی خاندان کی عورت کی عادت پر قیاس کر کے عمل کرے۔
➎ حیض کی حالت میں جماع کرنا گناہ ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللهُ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴾ [البقرة: 222]
"اور اے نبی! لوگ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دیجیے: وہ تو گندگی ہے۔ تم حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو اور ان سے ہم بستری نہ کرو یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، پھر جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے، بے شک اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔"
➏ حالتِ حیض میں ایک عورت کے ساتھ خاوند کے لیے جماع کے علاوہ سب کچھ جائز ہے۔
➐ جو شخص حالتِ حیض میں بیوی کے پاس جائے وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے۔ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرنے کا شریعت کی طرف سے اختیار ہے۔ دینار سے مراد کویتی کرنسی نہیں بلکہ عہدِ نبوی کا دینار ہے جو کہ 4 گرام 374 ملی گرام سونے کا تھا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 136
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الطهارة، باب في المرأة تستحاض... الخ، رقم: 274، وقال الالبانی: صحيح؛ سنن نسائی، الطهارة، باب ذكر الاغتسال من الحيض، رقم: 208؛ مسند احمد: 123/44، رقم: 26510، وقال الارنوؤط: حديث صحيح رجاله ثقات