حدیث نمبر: 75
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ عِمْرَانُ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَنِمْنَا عَنْ صَلاةِ الْفَجْرِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ ثُمَّ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ حَتَّى إِذَا أَمْكَنَتْنَا الصَّلاةُ صَلَّيْنَا " .
نوید مجید طیب

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم نماز فجر سے سو گئے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو گیا، آپ ﷺ نے مؤذن کو اذان کہنے کا حکم دیا، پھر ہم نے فجر کی سنتیں پڑھیں، حتیٰ کہ جب ممکن ہوا تو نماز فجر پڑھ لی۔

وضاحت:
➊ یہ غزوہ خیبر سے واپسی پر 7 ہجری کا واقعہ ہے۔
➋ اس حدیث سے ثابت ہوا فوائت کے لیے اذان کہی جاسکتی ہے اور جماعت بھی کرائی جاسکتی ہے، اگر اس علاقے میں اذان ہو چکی ہو تو صرف اقامت کہہ کر جماعت کرا دینی چاہیے یا سپیکر کے بغیر اذان دے لی جائے تاکہ لوگ چہ میگویاں نہ کریں «خاطبوا الناس بما يعرفون.»
➌ فجر کی سنتیں نماز قضا کرتے ہوئے بھی پڑھی جائیں گی۔
➍ ایک حدیث کے لفظ ہیں جو نماز سے سو گیا یا بھول گیا اسے جب یاد آئے فوراً پڑھے اس کا یہی کفارہ ہے۔ یعنی اس نماز کا یہی وقت ہے وہ اداء ہی ہوگی۔ [صحیح بخاری: 597، صحیح مسلم: 684]
➎ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ تم کل نماز فجر کے ساتھ قضا بھی دینا۔ یہ راوی کا وہم ہے اسی ایک روایت میں راوی نے تین وہم کھائے جو حسب ذیل ہیں۔ [سنن ابی داؤد: 438]
(الف) اس واقعہ کو "جیش الامراء" یعنی غزوہ موتہ قرار دیا حالانکہ یہ خیبر سے واپسی کا قصہ ہے۔
(ب) اس راوی کے سنت فجر جو پڑھنا چاہیے پڑھ لے کے الفاظ ہیں حالانکہ سنت فجر ہر حال میں پڑھنی ہوتی ہیں۔
(ت) اگلے دن قضا بھی دینا حالانکہ جملہ رواۃ نے اس کا ذکر نہیں کیا اس لیے بعض ماہر فن نے اس روایت کو شاذ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ راوی کا وہم ہے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ جب نمازی کو یاد آئے یا جاگے اسی وقت فوراً نماز پڑھے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في من نام عن صلاة أو فرط فيها / حدیث: 75
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصلاة، باب فى من نام عن الصلاة أو نسيها، رقم : 443 وقال الالباني: صحيح۔