حدیث نمبر: 76
أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنْ صَلاتِهِ قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ وَمَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَنَرَى أَنَّ مُكْثَهُ ذَلِكَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ لِكَيْ يَنْفُذَ النِّسَاءُ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُنَّ مَنِ انْصَرَفَ مِنَ الْقَوْمِ .
نوید مجید طیب

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ سلام پھیرتے تو سلام پھیرتے ہی عورتیں اٹھ جاتیں اور نبی کریم ﷺ اپنی جگہ پر تھوڑی دیر بیٹھے رہتے۔ ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہماری رائے میں آپ ﷺ اس لیے اپنی جگہ تھوڑی دیر بیٹھتے تاکہ مردوں کے اٹھنے سے پہلے عورتیں واپس چلی جائیں۔

وضاحت:
➊ عہدِ نبوی میں عورتیں بھی باجماعت نماز میں شریک ہوتی تھیں جن کی صفیں سب سے آخر میں ہوتیں۔ سلام پھیرتے ہی عورتیں نکل جاتیں، رسول اللہ ﷺ نماز کے بعد اپنے مصلیٰ پر تھوڑی دیر بیٹھتے۔ جب تک رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہوتے صحابہ کرام میں سے کوئی نہ اٹھتا۔ اس کی حکمت یہ تھی کہ عورتیں اتنی دیر میں اپنے گھروں میں پہنچ جائیں اور اختلاطِ مرد و زن پیدا نہ ہو۔
➋ اس حدیث سے عورتوں کا مسجد میں آنا ثابت ہوا۔
➌ ہر نماز کے بعد (اجتماعی طور پر) ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ضروری نہیں بلکہ ثابت ہی نہیں۔ عورتیں فوراً اٹھ جاتیں اور تھوڑی دیر بعد مرد بھی اٹھ جاتے۔
➍ اس حدیث میں حکمت عملی سے اختلاطِ مرد و زن کو دور کرنے کا بیان ہے۔ محض درس دیتے رہو کہ عورتیں نا محرم مرد سے دور رہیں مرد نامحرم عورت سے دور رہیں اور مواقع سارے مہیا کیے جائیں حکمت عملی نہ اپنائی جائے تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتے ہیں فطری طور پر دونوں ایک دوسرے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
➎ سلام پھیرنے کے بعد امام کو تھوڑی دیر جائے نماز پر بیٹھنا چاہیے تاکہ مقتدیوں کی ضرورت یا دیگر معاملات نمٹائے جا سکیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في جلوس الإمام بعد التسليم / حدیث: 76
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب التسليم، رقم : 837۔