حدیث نمبر: 631
أَنْبَأَنَا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : أُرَاهُ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي غَزَاةٍ أَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَرَّسْنَا فَأَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ عَلَى الْعَدُوِّ صَلاةَ الصُّبْحِ ، فَأَتَيْنَاهُ بِسَبْيٍ ، فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ السَّبْيِ جَارِيَةً حَسْنَاءَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ، فَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ ، فَقَالَ : " هَبْ لِيَ الْجَارِيَةَ " فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا ، قَالَ : فَسَكَتَ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ بَاتَتْ عِنْدِي فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ ، فَقَالَ : " هَبْ لِيَ الْجَارِيَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ ! " فَقُلْتُ : هِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا ، فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَفَادَى بِهَا أُسَارَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا فِي أَيْدِي الْمُشْرِكِينَ .
نوید مجید طیب

سیدنا ایاس بن سلمہ اپنے باپ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں ایک غزوہ میں ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں گئے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائد مقرر کیا ہم نے پڑاؤ ڈالا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا کہ دشمن پر نماز فجر کے وقت حملہ کرنا ہے ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لونڈی لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ مجھے انعام دی اور وہ سب سے زیادہ حسینہ تھی، میں نے اس کا کپڑا تک نہ اٹھایا حتی کہ مدینہ آ گئے میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینہ کے بازار میں ملاقات ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لونڈی مجھے ہبہ کر دو۔“ میں نے عرض کی وہ مجھے اچھی لگتی ہے میں نے ابھی تک اس کے کپڑے بھی نہیں اتارے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے جب رات آئی تو لونڈی نے میرے پاس رات گزاری لیکن میں نے اس کے کپڑے نہ اتارے دوسرے دن پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بازار میں ملاقات ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لونڈی ہبہ کر دو اللہ تیرے باپ کو برکت دے“ میں نے عرض کی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ ہوئی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں اتارا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی کو مکہ کے مشرکین کو دے کر چند مسلمان قیدی چھڑائے۔ ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں امام مزنی رحمہ اللہ نے یہ روایت ایاس بن سلمہ رحمہ اللہ سے بیان کی ہے میرا خیال ہے روایت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ان کے والد سے ہے۔

وضاحت:
➊ بوقت ضرورت کسی سے کوئی چیز تحفتاً مانگی جا سکتی ہے۔
➋ کفار و مشرکین کی قید میں موجود مسلمانوں کی رہائی کی تدابیر کرنا اسلامی حکومت پر فرض ہے۔
➌ قیدیوں کی رہائی کے لیے مال وغیرہ دینا درست ہے۔
➍ مسلمان کو مسلمان کی اذیت و تکلیف پریشان کرتی ہے۔
اخوت اس کو کہتے ہیں، چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستان کا ہر پیر و جواں بے تاب ہو جائے
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 631
تخریج حدیث صحیح مسلم الجہاد والسیر باب التفضیل وفداء المسلمین بالاساری، رقم: 1755۔