حدیث نمبر: 630
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلا كَثِيرَةً فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا ثُمَّ نُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا " .نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک فوجی دستہ کاروائی کے لیے بھیجا جن میں میں بھی شامل تھا تو غنیمت میں بہت سے اونٹ ملے ہر ایک کے حصے میں بارہ بارہ اونٹ آئے یا گیارہ گیارہ آئے پھر ایک ایک اونٹ بطور انعام ملا۔
وضاحت:
➊ لشکر کے کسی دستے کو اضافی انعام دیا جا سکتا ہے جس نے بڑے لشکر سے علیحدہ طور پر کوئی خاص جرات مندانہ کاروائی کی ہو۔
➋ یہ انعام بیت المال کے حصہ خمس سے دیا جائے گا۔
➌ حسن کارکردگی پر انعام دینا مسنون اور مستحب عمل ہے۔
➋ یہ انعام بیت المال کے حصہ خمس سے دیا جائے گا۔
➌ حسن کارکردگی پر انعام دینا مسنون اور مستحب عمل ہے۔