حدیث نمبر: 626
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتًّا كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ : " أنْ لا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلا تَسْرِقُوا ، وَلا تَزْنُوا ، وَلا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ ، وَلا يَعْضَهَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ، وَأَنْ لا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَمَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً فعُجِّلَتْ عُقُوبَتُهُ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ وَمَنْ أُخِّرَتْ عُقُوبَتُهُ ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ " . حَدَّثَنَا الطَّحَاوِيُّ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ : مَنْ كَذَبَ عَلَى أَخِيهِ فَقَدْ عَضَهَهُ .
نوید مجید طیب

سید نا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے چھ باتوں کا عہد لیا جیسا کہ عورتوں سے بھی لیا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ ذرہ برابر بھی شرک نہیں کرنا، چوری نہیں کرنی، زنا نہیں کرنا، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرنا، ایک دوسرے پر تہمت نہ لگائیں گے، جس بھلائی کا میں حکم دوں میری نافرمانی نہیں کرنی“ تو جو مذکورہ جرائم میں سے کسی کا ارتکاب کر لے اسے دنیا میں سزا مل گئی تو یہ اس کے جرم کا کفارہ ہو جائے گا اور جس کی سزا مؤخر ہوئی اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے چاہے تو عذاب کرے چاہے تو معاف کر دے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس نے آدمی پر ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اس نے اس پر تہمت باندھی (ایک نسخے میں ہے جس نے اپنے بھائی پر جھوٹ باندھا اس نے اسے دانتوں سے کانا / غیبت / تہمت سب معانی اس میں آتے ہیں)۔

وضاحت:
➊ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ رب العزت کے احکامات پر خلوصِ دل سے عمل پیرا ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کو دل و جان سے قبول کرنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے۔
➋ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان کو پورا کرنا لازم ہے اور یہ کام باعثِ اجر و ثواب ہے۔
➌ کسی گناہ کی دنیا میں تعزیر یا حد کا نفاذ اس کے لیے کفارہ ہے۔
➍ معاشرے میں امن و سکون اور جرائم کے خاتمہ کے لیے حدود و تعزیرات کا نفاذ انتہائی لازم ہے۔
➎ موجودہ دور میں تصوف کے مختلف سلسلوں میں رائج بیعت کے طریقوں کا خیر القرون میں موجود بیعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، اور یہ بیعتیں محض اپنی اپنی گدی کی رونق کے لیے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 626
تخریج حدیث سنن ابن ماجہ الحدود، باب الحد کفارہ، رقم: 2603 وقال الالبانی صحیح، مسند احمد: 341/37، رقم: 22669 وقال الارنوؤط اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔