حدیث نمبر: 625
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّ أَبَاهُ ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ ، وَأَنْ لا نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ وَأَنْ نَقُومَ أَوْ نَقُولَ بِالْحَقِّ لا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لائِمٍ " .نوید مجید طیب
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات سننے اور ماننے پر بیعت کی تنگی ہو یا آسانی پسند ہو یا ناپسند اور یہ کہ حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں (اس وقت تک) جھگڑا نہ کریں (جب تک انہیں اعلانیہ کفر کرتا نہ دیکھ لیں) اور ہمیشہ حق کا ساتھ دیں، اللہ کے لیے کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہ کریں۔