حدیث نمبر: 614
عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوهُ " .نوید مجید طیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں فتح مکہ کے موقع پر اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوہے کی ٹوپی پہنی تھی جب اتاری تو ایک آدمی آیا کہنے لگا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ابن خطل کعبہ کے غلاف سے چمٹا ہوا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“
وضاحت:
➊ معلوم ہوا حرمِ مکی میں بغیر احرام داخل ہونا جائز ہے۔
➋ ابن خطل نے پہلے اسلام قبول کیا بعد ازاں مرتد ہو گیا اور اس نے ایک انصاری صحابی کو بھی قتل کیا تھا۔
➌ امام ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن خطل کا نام عبد اللہ ہے اور اس کو سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ [سنن ابی داؤد: 2685]
➋ ابن خطل نے پہلے اسلام قبول کیا بعد ازاں مرتد ہو گیا اور اس نے ایک انصاری صحابی کو بھی قتل کیا تھا۔
➌ امام ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن خطل کا نام عبد اللہ ہے اور اس کو سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ [سنن ابی داؤد: 2685]