حدیث نمبر: 613
أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ غَزَوْنَاهَا ، فَجَاءَ رَجُلٌ طَلِيعَةٌ فَقَتَلَهُ سَلَمَةُ بْنُ الأَكْوَعِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ ؟ " قَالُوا : سَلَمَةُ بْنُ الأَكْوَعِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ " .
نوید مجید طیب

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ لڑا ایک جاسوس آیا جسے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کس نے قتل کیا؟“ لوگوں نے کہا: سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا سارا ساز و سامان سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا ہے۔“

وضاحت:
➊ یہ غزوہ بنی ہوازن کا واقعہ ہے، جاسوس اونٹ پر آیا، صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ کھانا کھایا پھر بھاگنے لگا تو قبیلہ بنو اسلم کا ایک مجاہد سب سے عمدہ سواری پر اس جاسوس کے پیچھے گیا جبکہ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ پیدل اس کے پیچھے دوڑے تو اونٹنی والے سے پہلے پہنچ گئے، بھاگتے اونٹ کی نکیل پکڑ کر اونٹ کو بٹھا لیا اور جاسوس کی گردن اڑائی۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا۔
➌ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ دنیا کے تیز رفتار آدمی تھے، دوڑتے گھوڑے کو پکڑ لیتے تھے۔
➍ سوار کافروں کو پیدل دوڑ کر تیر کے نشانے لگاتے تھے اور ساتھ فرماتے جاتے: «انا ابن الاكوع واليوم يوم الرضع» [بخاري: 3041] (میں اکوع کا بیٹا سلمہ ہوں اور آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے)۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 613
تخریج حدیث صحیح مسلم، الجهاد والسير، باب استحقاق القاتل سلب القتيل، رقم: 1751۔