حدیث نمبر: 600
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ الْكُوفِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَلْ عِنْدَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِلْمٌ سِوَى الْقُرْآنِ ؟ فَقَالَ : " لا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ ، مَا عِنْدَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ سِوَى الْقُرْآنِ إِلا أَنْ يُؤْتِيَ اللَّهُ عَبْدًا فَهْمًا فِي الْقُرْآنِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ " ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ؟ قَالَ : " الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الأَسِيرِ وَأَنْ لا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ " .
نوید مجید طیب

ابو جحیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : کیا آپ کے پاس قرآن کے سوا اور بھی کوئی علم نبوی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا : ”نہیں اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑ کر انگوری نکالی اور روح کو پیدا کیا مگر یہ کہ اللہ کسی آدمی کو اپنی کتاب کی سمجھ عطا کر دے یا پھر یہ صحیفہ ہے“ میں نے عرض کی اس صحیفہ میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”اس میں دیت کے مسائل ہیں اور قیدی کو چھڑانے کا بیان، اور یہ کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا۔“

وضاحت:
➊ بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کو خاص علم دیا جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس بات کی تردید فرمائی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
➋ فہمِ کتاب و سنت میں لوگوں کے درمیان تفاضل موجود ہے۔
➌ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس مکتوب علم تھا جس سے معلوم ہوا حدیث مبارکہ کی کتابت عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوئی۔
➍ العقل کا لفظی معنی اونٹ کو باندھنے والی رسی ہے۔ چونکہ بطور دیت اونٹ دیے جاتے ہیں جن کو مقتول کے گھر لا کر رسیوں سے باندھ دیا جاتا ہے اس لیے العقل بمعنی دیت بھی مستعمل ہوا۔
➎ کافر حربی ہو یا ذمی اس کے بدلے مومن و مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب عقل الجنين / حدیث: 600
تخریج حدیث صحیح بخاری، العلم، باب كتابة العلم، رقم: 111۔