عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : طُعِنَ رَجُلٌ بِقَرْنٍ فِي رِجْلَهِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَقِدْنِي ، فَقَالَ : " انْتَظِرْ " ، فَعَادَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " انْتَظِرْ " ، فَعَادَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " انْتَظِرْ " ، فَعَادَ إِلَيْهِ ، فَأَقَادَهُ فَبَرِئَتْ رِجْلُ الْمُسْتَقَادُ مِنْهُ وَشَلَّتْ رِجْلُ الآخَرِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ بَرِئَتْ رِجْلُهُ وَشَلَّتْ رِجْلِي ، قَالَ : " قَدْ قُلْتُ لَكَ : انْتَظِرْ " وَلَمْ يَرَ لَهُ شَيْئًا .محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو سینگ کے ساتھ ٹانگ پر زخمی کیا گیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے قصاص چاہیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑا انتظار کر لے“ پھر دوبارہ آ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”تھوڑا صبر کر جا“ پھر آ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑا انتظار کر“ پھر آ کر یہی مطالبہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قصاص دلایا تو جس سے قصاص لیا گیا تھا اس کی ٹانگ درست ہو گئی؟ پہلے کی ٹانگ شل ہو گئی تو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اُس کی ٹانگ تو ٹھیک ہوگئی ہے جبکہ میری مفلوج ہو گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے کہا تھا تھوڑا انتظار کر اب تیرے لیے کچھ نہیں (تو قصاص لے چکا ہے صبر کرتا تو نصف دیت ملتی)“