حدیث نمبر: 591
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ : وُجِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ قَتِيلا فِي فَقِيرٍ مِنْ فُقُرِ خَيْبَرَ أَوْ قَالَ : فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلُبِ خَيْبَرَ ، فَأُتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ ، وَحُوَيِّصَةُ ، وَمُحَيِّصَةُ فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ يَتَكَلَّمُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكِبَرَ الْكِبَرَ " ، فَتَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلا ، وَإِنَّ الْيَهُودَ أَهْلُ كَفْرٍ وَغَدْرٍ وَهُمُ الَّذِينَ قَتَلُوهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ ؟ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ نَحْلِفُ عَلَى مَا لَمْ نَحْضُرْ وَلَمْ نَشْهَدْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا " ، فَقَالُوا : كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ مُشْرِكِينَ ، قَالَ : فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ سَهْلٌ : فَرَكَضَتْنِي بَكْرَةٌ مِنْهَا . قَالَ الطَّحَاوِيُّ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَكَانَ سُفْيَانُ يُحَدِّثُهُ هَكَذَا وَرُبَّمَا قَالَ : لا أَدْرِي أَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَنْصَارَ فِي الْيَمِينِ أَمْ يَهُودَ ؟ فَيُقَالُ لَهُ : إِنَّ النَّاسَ يُحَدِّثُونَ أَنَّهُ بَدَأَ بِالأَنْصَارِ قَالَ : فَهُوَ كَذَلِكَ وَرُبَّمَا حَدَّثَهُ وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ .
نوید مجید طیب

سیدنا سہل بن ابی خیثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ خیبر کے ایک گڑھے میں مقتول پائے گئے یا خیبر کے ایک کنویں میں، تو ان کے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ اور سیدنا حویصہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لے کر گئے عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ نے گفتگو کرنا چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بڑے کو بات کرنے دیں۔“ تو سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی اور کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا اور یہود کافر اور دھوکے باز قوم ہے انہوں نے ہی قتل کیا ہے“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے اور خون کے حقدار ٹھہرو گے؟“ تو وہ کہنے لگے ”اے اللہ کے رسول! ہم ایسے معاملے پر کیسے قسمیں کھائیں جو ہم نے مشاہدہ نہیں کیا آنکھوں سے دیکھا نہیں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہود پچاس قسمیں کھا کر بری الذمہ ہو جائیں گے۔“ انہوں نے عرض کی ”ہم مشرک قوم کی قسموں پر کیسے یقین کریں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے دیت اداء کی سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ان ہی اونٹوں میں سے ایک نے مجھے لات ماری تھی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں سفیان رحمہ اللہ کبھی بیان کرتے ہوئے کہتے کہ مجھے نہیں معلوم قسم انصار سے شروع کی یا یہود سے، تو انہیں کہا گیا لوگوں کا کہنا ہے قسم کا آپشن پہلے انصار کو دیا گیا کہنے لگے ایسے ہی لگتا ہے اور بہت دفعہ بغیر شک کے بھی سفیان رحمہ اللہ روایت ہذا بیان کرتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في القسامة / حدیث: 591
تخریج حدیث سنن نسائی، القسامة، باب ذکر اختلاف الفاظ الناقلین لخبر سہل فقیہ، رقم: 4717 وقال الالبانی صحیح، سنن ابی داؤد، الدیات، باب القتل بالقسامة، رقم: 4520، سنن ترمذی، الدیات، باب ماجاء فی القسامة، رقم: 1422 وقال حسن صحیح۔