حدیث نمبر: 580
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ فَقَالَتْ : إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ , عَدَدْتُهَا لَهُمْ وَيَكُونَ وَلاؤُكِ لِي فَعَلْتُ ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ ، فَأَبَوْا عَلَيْهَا ، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ ، فَقَالَتْ : إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا عَلَيَّ إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَهُمْ ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ ، فَقَالَ : " خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُهُ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
نوید مجید طیب

سیدہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے میرے پاس سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں کہنے لگی ”میں نے اپنے مالکان سے اپنی آزادی کا سودا (9) اوقیہ چاندی کے عوض کیا ہے ہر سال ایک اوقیہ اداء کرنا ہے میری کچھ مدد کریں،“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اگر تیرے مالکان راضی ہوں تو میں (یک مشت) تیری رقم اداء کر دوں گی لیکن تیرا تعلق (ولاء) آزادی میرے لیے ہوگا۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا نے جا کر مالکان کو پیش کش کی ہے لیکن وہ نہ مانے تو بریرہ رضی اللہ عنہا واپس آئیں جبکہ رسول اللہ ﷺ بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف فرما تھے کہنے لگی ”میں نے ان کو پیش کش کی ہے لیکن ان کی ضد ہے کہ ولاء ان ہی کے لیے ہوگی،“ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات سنی تفصیل عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلائی آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے خرید لو اور ولاء کی شرط رکھو تعلق ولاء اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔“ پھر لوگوں میں خطبہ دیا اور فرمایا : ”اما بعد! لوگوں کو کیا ہو گیا ایسی شرط لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں، ہر وہ شرط جو کتاب اللہ کے مطابق نہیں وہ باطل ہے، اگرچہ سو شرط ہی کیوں نہ ہو اللہ کا فیصلہ برحق ہے اور اللہ کی شرط ہی مضبوط تر ہے ولاء تو اس کا ہوگا جو آزاد کرے گا۔“

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير / حدیث: 580
تخریج حدیث صحیح بخاری، البیوع، باب اذا اشترط شروطا فی البیع لا تحل رقم 2168، صحیح مسلم، العتق باب انما الولاء لمن اعتق رقم: 1504۔