حدیث نمبر: 579
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنَ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ " .
نوید مجید طیب

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے حق ولاء کو فروخت کرنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔

وضاحت:
➊ جب مالک کسی کو آزاد کرتا ہے تو آزادی دلانے والے مالک اور غلام کے درمیان رشتہ اور تعلق ولاء کہلاتا ہے اسی تعلق کے پیش نظر غلام کی وراثت مالک کو ملتی ہے، یہ تعلق اور رشتہ ناقابل انتقال ہے اس کو فروخت کرنا، ہبہ کرنا ممنوع ہے۔
➋ کسی سے سودا کر لینا کہ مجھے اتنے پیسے ابھی دے دے آزاد کردہ غلام مرا تو اس کی وراثت تم لے لینا یہ بھی جائز نہیں کیونکہ اس میں دھوکہ ہے کیا پتا مرتے وقت اس کے پاس مال ہوگا یا نہیں اور پھر پہلے کون مرے گا یہ بھی معلوم نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير / حدیث: 579
تخریج حدیث سنن نسائی، البیوع، باب بیع الولاء رقم: 4658، وقال الالبانی: صحیح، مؤطا امام مالک، العتق، باب مصیر الولاء لمن اعتق، رقم: 20۔