السنن المأثورة
باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير— گھوڑے، خچر اور گدھے کے گوشت کا بیان
باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير باب: گھوڑے، خچر اور گدھے کے گوشت کا بیان
حدیث نمبر: 570
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ : إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ " ، قَالَ : قَدْ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ عِنْدَنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنْ أَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَقَرَأَ : قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ سورة الأنعام آية 145 الآيَةَ .نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لوگوں کا خیال ہے نبی اکرم ﷺ نے گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے یہ بات ہمارے پاس حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کہتے جو نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں لیکن علم کے سمندر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس بات کا انکار کیا اور اپنی دلیل میں قرآن کریم کی آیت پڑھی : ”اے پیارے کہہ دے جو میری طرف وحی آئی اس میں میں کھانے والے پر حرام نہیں پاتا کہ وہ کھائے“ آگے محرمات کا ذکر ہے۔ (جس میں گدھے کا ذکر نہیں)
وضاحت:
➊ گھریلو گدھوں کی حرمت خیبر کے موقع پر نازل ہوئی اور اس کے بعد ان کی حلت کا حکم نہیں آیا، جیسا کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ [صحیح بخاری: 5512، صحیح مسلم: 1942]
➋ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی حرمت کے قائل تھے چنانچہ عامر الشعمی رحمہ اللہ کہتے ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا کہ اس سے بوجھ منتقل کرنے کا کام لیا جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا کہ بوجھ اٹھانے والے جانوروں کی قلت ہو جائے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت فرمائی تھی۔ [صحیح بخاری: 4227]
➋ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی حرمت کے قائل تھے چنانچہ عامر الشعمی رحمہ اللہ کہتے ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا کہ اس سے بوجھ منتقل کرنے کا کام لیا جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا کہ بوجھ اٹھانے والے جانوروں کی قلت ہو جائے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت فرمائی تھی۔ [صحیح بخاری: 4227]