السنن المأثورة
باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير— گھوڑے، خچر اور گدھے کے گوشت کا بیان
باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير باب: گھوڑے، خچر اور گدھے کے گوشت کا بیان
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بُكْرَةً وَقَدْ خَرَجُوا بِالنِّسَاءِ مِنَ الْحِصْنِ فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ثُمَّ أَحَالُوا إِلَى الْحِصْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَكَبَّرَ ثَلاثًا : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " ، فَلَمَّا فَتَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابُوا حُمُرًا فَطَبَخُوا مِنْهَا فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْهَا فَإِنَّهَا نَجَسٌ فَكَفَئُوا الْقُدُورَ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں کو صبح صبح جا لیا وہ اس وقت اپنی عورتوں کے ساتھ قلعوں سے باہر نکلے ہی تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو چلائے: محمد ﷺ لشکر لے کر آ گئے، محمد ﷺ لشکر لے کر آ گئے پھر قلعہ کی طرف بھاگے تو نبی ﷺ نے ہاتھ بلند کر کے تین تکبریں کہیں: ”اللہ اکبر خیبر برباد ہوا، ہم جب کسی قوم کے میدان میں (بغرض جہاد) اترتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔“ جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر فتح کر لیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کچھ گدھے میسر آئے جن کا گوشت پکا لیا تو اسی اثناء میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایک اعلان کرنے والے نے منادی کی: ”خبر دار بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ تمہیں اس گوشت سے منع کرتے ہیں بے شک گدھے نجس ہیں۔“ انہوں نے (اعلان سن کر) ہنڈیاں انڈیل دیں۔
➋ گھریلو گدھوں سے مراد معروف گدھے ہیں یہ حرام ہیں۔
➌ ایک جنگلی گدھا ہوتا ہے جس کے کھر گدھے کی مانند ہوتے ہیں اصل میں جنگلی گائے ہوتی ہے کھر کی وجہ سے اسے جنگلی گدھا کہہ دیتے ہیں جو کہ حلال جانور ہے۔
➍ گدھوں کی حرمت سات ہجری غزوہ خیبر کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔
➎ گھوڑوں کو نحر کیا جاتا تھا چنانچہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا: «نحرنا فرسا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فأكلناه» [صحیح بخاری: 5512]
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گھوڑا نحر کیا پھر ہم نے اس کے گوشت کو کھایا۔
➏ خمیس لشکر کو کہتے ہیں کیونکہ اس کے پانچ حصے ہوتے ہیں: (1) مقدمہ، (2) ساقہ، (3) میمنہ، (4) میسرہ، (5) قلب۔
➐ میدان جنگ میں نعرہ تکبیر لگانا جائز ہے۔
➑ امر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر صورت، ہر حال میں اور ہر وقت فوراً قابل اتباع ہے۔