حدیث نمبر: 566
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ ، قَالَتْ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ عَنْ لُحُومِ الْهَدْيِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ، لا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا " .
نوید مجید طیب

سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہتی ہیں میں نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوئی میں نے قربانی کے گوشت کے بارے میں پوچھ رہی تھی کہ (اس دوران) آپ ﷺ کو فرماتے سنا: ”بچے کی طرف سے دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جاوے کوئی نقصان نہیں مذکر ہوں یا مؤنث۔“

وضاحت:
➊ سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا حدیبیہ کے موقع پر حاضر ہوئی تھیں دیگر لوگ سوال کر رہے تھے تو انہوں نے اپنے سوال کے علاوہ دیگر مسائل بھی سنے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مزید مسائل بھی سمجھا دیے۔
➋ عالم دین کو چاہیے موقع میسر آنے پر ملتے جلتے مسائل بھی سائل کو بتا دے تاکہ اس کا فائدہ ہو۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 566
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، العقيقة، رقم: 2835، سنن نسائی، العقيقة، باب كم يعق عن الجارية، رقم: 4217 وقال الالبانی: صحيح، سنن ابن ماجة، الذبائح، باب العقيقة، رقم: 3162۔