حدیث نمبر: 56
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، سَمِعَ عَمَّهُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ لَنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا , وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا " .
نوید مجید طیب

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے اور ہمارے ایک یتیم لڑکے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اپنے گھر میں نماز ادا کی اور (ہماری والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی تھیں۔

وضاحت:
➊ دو مقتدی چاہے بچے ہوں وہ بھی امام کے پیچھے کھڑے ہوں گے، اور عورت مردوں کی صف میں کھڑی نہیں ہوگی چاہے اکیلی ہو، اگر صرف عورت مقتدی ہو تب بھی پیچھے اکیلی کھڑی ہوگی۔
➋ اکیلی عورت امام کے پیچھے کھڑی ہو سکتی ہے البتہ مرد نہیں ہو سکتا۔
➌ مسجد میں باجماعت نماز کے ساتھ ملنے والا شخص اگر پہلی صفوں کو مکمل پاتا ہے تو وہ اکیلا نماز پڑھ سکتا ہے۔ اگر پہلی صفوں میں جگہ موجود ہے تو ایسی صورت میں پیچھے اکیلا کھڑے ہونے والے کی نماز نہ ہوگی۔
➍ مکمل صفوں سے آدمی کو پیچھے کھینچ کر اپنے ساتھ کھڑا کرنا اور اگلی صف میں نقص پیدا کرنا درست نہیں۔
➎ اگلی صف سے بندہ کھینچنے سے متعلق وارد روایت سنداً کمزور ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب صلاة الإمام بالواحد والاثنين / حدیث: 56
تخریج حدیث صحیح بخارى، الاذان، باب المرأة وحدها تكون صفا، رقم : 727؛ صحيح مسلم المساجد ومواضع الصلاة باب جواز الجماعة فى النافلة، والصلاة على حصير، رقم : 658۔