حدیث نمبر: 497
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَهً فِي جِدَارِهِ " . قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : مَا لِيَ أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ ! وَاللَّهِ لأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ روکے“ راوی کہتے ہیں کہ پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرمایا کرتے تھے یہ کیا میں تمہیں اعراض کرتا دیکھ رہا ہوں میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان گاڑوں گا۔

وضاحت:
➊ حدیث مبارکہ میں پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے اس سے ہمسائے کو ایک دیوار کم تعمیر کرنا پڑے گی اور اس کے ساتھ احسان ہوگا۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا وہ شخص مومن نہیں ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کون؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من لا يأمن جاره بوائقه» [بخاری: 6016]
جس کی اذیت سے اس کے ہمسائے محفوظ نہیں ہیں۔
➌ ہمسائیوں سے حسن سلوک واجب ہے۔ دینِ اسلام میں اس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جبریل مجھے مسلسل ہمسائیوں سے متعلق تاکید کرتے رہے حتی کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ ان کو جائیداد میں وارث بنا دیں گے۔ [بخاری: 6015]
➍ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حق گو اور بے باک تھے۔
➎ کتاب وسنت کی ترویج و تبلیغ میں آدمی کو مداہنت کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 497
تخریج حدیث صحیح بخاری، المظالم والغصب، باب لا يمنع جار جاره ان يغرز خشبة في جداره، رقم: 2463 صحیح مسلم، المساقاة، باب غرز الخشب في جدار الجار، رقم: 1609 صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1623