السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلا فَشَأْنُكَ بِهَا " ، قَالَ : فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " قَالَ : فَضَالَّةُ الإِبِلِ ؟ قَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا " .سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور سوال کیا کہ گری پڑی چیز کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی تھیلی اور بندھن پہچان لے پھر سال بھر اس کی شناخت کراؤ اگر اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کرو اگر نہیں تو فائدہ اٹھا لو“ آدمی نے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے“ آدمی نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ اور پاؤں ہے پانی تک جا سکتا ہے، درخت کھا سکتا ہے حتی کہ اس کو مالک مل جائے گا۔“
➋ اگر چیز عام معمولی نوعیت کی ہے تو اسے استعمال کیا جا سکتا ہے علمائے امت ماہرینِ فن کا یہی فتویٰ ہے۔
➌ بکری اپنی حفاظت نہیں کر سکتی اس لیے بھیڑیے سے اس کی حفاظت ضروری تھی، سال بعد مالک آئے تو اس سے آدمی بکری کی دیکھ بھال کا خرچ لے سکتا ہے، بکری واپس کرے گا۔ اونٹ اپنی حفاظت خود کر لیتا ہے اس لیے اس کو پکڑنے سے منع کیا۔