حدیث نمبر: 493
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلا فَشَأْنُكَ بِهَا " ، قَالَ : فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " قَالَ : فَضَالَّةُ الإِبِلِ ؟ قَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا " .
نوید مجید طیب

سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور سوال کیا کہ گری پڑی چیز کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی تھیلی اور بندھن پہچان لے پھر سال بھر اس کی شناخت کراؤ اگر اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کرو اگر نہیں تو فائدہ اٹھا لو“ آدمی نے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے“ آدمی نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ اور پاؤں ہے پانی تک جا سکتا ہے، درخت کھا سکتا ہے حتی کہ اس کو مالک مل جائے گا۔“

وضاحت:
➊ وہ گمشدہ قیمتی اشیاء جس سے اس کا مالک بے نیاز نہیں ہو سکتا اس کی صفات یاد کر لیں مالک آئے تو اس کو واپس کی جائیں اور ایسی چیز کا سال بھر مجمع عام میں اعلان کرانا چاہیے پھر بھی مالک نہ ملے تو صدقہ کر دے یا استعمال کرے لیکن اگر سال بعد مالک آ جائے تو چیز واپس کرنی چاہیے یا اس کا بدل واپس کرنا چاہیے۔
➋ اگر چیز عام معمولی نوعیت کی ہے تو اسے استعمال کیا جا سکتا ہے علمائے امت ماہرینِ فن کا یہی فتویٰ ہے۔
➌ بکری اپنی حفاظت نہیں کر سکتی اس لیے بھیڑیے سے اس کی حفاظت ضروری تھی، سال بعد مالک آئے تو اس سے آدمی بکری کی دیکھ بھال کا خرچ لے سکتا ہے، بکری واپس کرے گا۔ اونٹ اپنی حفاظت خود کر لیتا ہے اس لیے اس کو پکڑنے سے منع کیا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 493
تخریج حدیث صحیح بخاری، اللقطة، باب اذا لم یوجد صاحب اللقطة بعد سنة فهی لمن وجدها، رقم: 2429، صحیح مسلم، اللقطة، رقم: 1722۔