السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَقَالَ : ابنُ أَخِيَ قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : أَخِي ابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ فَتَسَاوَقَاهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ : إِنَّ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ " ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ " لَمَّا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ .سیدہ عائشہ زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا میرے نطفے سے ہے اسے لے لینا، جب مکہ فتح ہوا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ لیا اور کہنے لگے یہ (میرے بھائی کا بیٹا ہے) بھائی نے اس کے بارے وصیت کی تھی، عبد بن زمعہ کہنے لگے میرا بھائی ہے، یہ میرے باپ کی لونڈی سے اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بچہ اس کا ہو گا جس کے بستر پر پیدا ہوا جبکہ زانی کے لیے سنگساری ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”ابن زمعہ سے پردہ کر“ کیونکہ ابن زمعہ شکل میں عقبہ سے مشابہت رکھتا تھا پھر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے وفات تک ابن زمعہ کو نہ دیکھا۔
➋ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو احتیاطاً پردے کا حکم دیا گیا اس سے معلوم ہوا قاضی کا فیصلہ باطنی اور حقیقی امر نہیں بدلتا گو وہ بظاہر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا بھائی ٹھہرا مگر حقیقتاً عند اللہ بھائی نہ ٹھہرا اسی وجہ سے پردہ کا حکم دیا یہ نکتہ مولانا داؤد راز رحمہ اللہ مترجم و شارح صحیح بخاری نے بیان کیا ہے۔
➌ بچہ قانوناً اس کا تسلیم ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوتا ہے یعنی جو شرعی و قانونی خاوند ہوتا ہے بچہ اسی کو ملے گا جب تک قانونِ لعان کے ذریعے وہ انکار نہ کرے اگر لعان کرتا ہے تو بچہ ماں کی طرف منسوب ہوگا اور ماں بیٹا ایک دوسرے کے وارث ہیں۔
➍ زانی مرد کا اگر مقدمہ زنا ثابت ہو جائے تو تب بھی الحاقِ نسب نہیں ہوگا زانی کو شادی شدہ ہونے کی صورت میں پتھر اور غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں کوڑے ملیں گے، بچہ نہیں ملے گا نہ اس کی طرف منسوب ہوگا اور نہ ہی شرعی وارث بنے گا۔
➎ قیافہ شناسی وہاں بطورِ دلیل معتبر ہوگی جہاں اس کے معارض کوئی قوی دلیل نہ ہو جہاں قوی دلیل اسلامک لاء موجود تھا، اور جہاں لعان کا قانون بھی حرکت میں ہو وہاں بھی قیافہ شناسی سے مقدمہ ثابت نہیں کیا جاتا۔