حدیث نمبر: 49
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَهُودِيَّةً جَاءَتْ تَسْأَلُهَا , فَقَالَتْ : أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ! " ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا , فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ ضُحًى , فَخَرَجَ فَمَرَّ بَيْنَ ظَهْرَيِ الْحُجَرِ , ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي , فَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ , فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا , ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا , ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ , ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ , وَانْصَرَفَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ , ثُمَّ " أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
نوید مجید طیب

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت بھیک مانگنے آئی اور کہنے لگی تجھے اللہ عذاب قبر سے پناہ میں رکھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا لوگوں کو قبر میں عذاب ہو گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ سے اس کی پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح سواری پر سوار ہو کر کہیں چلے گئے تو سورج کو گرہن لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اشراق کے وقت واپس لوٹے حجروں کے درمیان سے گزرے پھر نماز پڑھنے لگے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا قیام کیا پھر لمبا رکوع کیا پھر رکوع سے اٹھ کر ایک لمبا قیام کیا وہ پہلے قیام سے کچھ کم تھا پھر رکوع لمبا کیا لیکن پہلے سے کم لمبا تھا پھر اٹھے اور سجدہ کیا پھر (دوسری رکعت) میں لمبا قیام کیا لیکن پہلے سے کم تھا پھر لمبارکوع کیا جو پہلے سے کم تھا پھر لمبا قیام جو اپنے پہلے سے کم تھا پھر رکوع کیا لمبا تو تھا لیکن پہلے سے کم پھر سجدہ کیا پھر اٹھے دوسرا سجدہ کیا پھر لمبا قیام کیا جو پہلے سے کم تھا پھر رکوع لمبا کیا لیکن پہلے والے سے کم تھا پھر اٹھے لمبا قیام کیا جو پہلے سے کم تھا پھر لمبارکوع کیا جو پہلے سے کم تھا پھر رکوع سے اٹھے سجدہ کیا اور نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اللہ نے چاہا دُعا کی پھر صحابہ کو حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ سے عذاب قبر سے پناہ طلب کریں۔

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الكسوف / حدیث: 49
تخریج حدیث صحيح بخاری، الكسوف، باب صلاة الكسوف في المسجد، رقم: 1055 ، 1056 ، صحيح مسلم الكسوف، باب صلاة الكسوف، رقم: 901۔