السنن المأثورة
باب ما جاء في صلاة الكسوف— نماز کسوف کا بیان
باب ما جاء في صلاة الكسوف باب: نماز کسوف کا بیان
وَأَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ , فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ , فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا , قَالَ : نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ , قَالَ : ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا , ثُمَّ رَفَعَ , فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ , ثُمَّ سَجَدَ , ثُمَّ انْصَرَفَ , وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ , فَقَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ , لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ , فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ فِي مَقَامِكَ هَذَا شَيْئًا , ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ ! قَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ , فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا , وَلَوْ أَخَذْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا , وَرَأَيْتُ أَوْ أُرِيتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ , وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " , قَالُوا : بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِكُفْرِهِنَّ " , قِيلَ : أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ ؟ ! قَالَ : " يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ , وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ , لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ ! " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ نے سورۃ البقرۃ کی قرآت جتنا لمبا قیام کیا پھر لمبا رکوع کیا، رکوع سے اٹھ کر پھر لمبا قیام کیا، لیکن یہ قیام پہلے قیام سے قدرے کم تھا پھر رکوع کیا جو پہلے رکوع سے قدرے کم تھا پھر سجدہ کیا پھر نماز مکمل کر کے سلام پھیرا تو گرہن ختم ہو چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں جن کے گرہن کا تعلق کسی کی موت یا حیات سے نہ ہے جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو۔“ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے آپ کو قیام کے دوران دیکھا کہ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں پھر ہم نے دیکھا آپ پیچھے ہٹے؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی تو میں نے اس سے ایک خوشہ لینے کی کوشش کی اگر میں لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک اسے کھاتے اور میں نے آگ دیکھی یا مجھے دکھائی گئی اس جیسا خوف ناک منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا میں نے جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی۔“ صحابہ نے عرض کیا عورتیں زیادہ کیوں تھیں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے کفر کی وجہ سے۔“ صحابہ نے عرض کیا: کیا اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں خاوند کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہوتی ہیں اگر تو ساری زندگی ان سے حسن سلوک کرے پھر تھوڑی سی ناگوار چیز دیکھ لیں تو کہیں گی میں نے تجھ سے کبھی بھلائی نہ دیکھی۔“