السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ مِنْ أَهْلِ دَارِنَا فَذَهَبْتُ مَعَ الشَّيْخِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْحِجْرِ فَسَأَلَهُ عَنْ وِلادٍ مِنْ وِلادٍ مِنْ قَالَ : وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا طَلَّقَهَا زَوْجُهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا نَكَحَتْ بِغَيْرِ عِدَّةٍ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : أَمَّا النُّطْفَةُ فَمِنْ فُلانٍ وَأَمَّا الْوَلَدُ فَهُوَ عَلَى فِرَاشِ فُلانٍ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : صَدَقْتَ وَلَكِنْ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بِالْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ " .عبید اللہ بن ابو یزید رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بنو زہرہ کے ہمارے ایک بزرگ کو بلایا تو میں اس بزرگ کے ساتھ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حجر البیت میں تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بوڑھے سے جاہلیت کی ولادت کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کو طلاق ہو جاتی یا خاوند فوت ہو جاتا تو وہ بغیر عدت گزارے آگے شادی کر لیتی تو آدمی کہتا نطفہ تو فلاں کا ہے اور بچہ فلاں کے بستر پر پیدا ہوا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو نے سچ کہا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے