السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 488
عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : فَلَمَّا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مُرْهَا فَلْتَغْتَسِلْ ، أَوْ قَالَ مُرُوهَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتُهِلَّ " . الشَّكُّ مِنَ الشَّافِعِيِّ .نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ہم بیداء مقام پر پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں محمد بن ابی بکر کی پیدائش ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”اسے حکم دو غسل کرے پھر احرام باندھ لے۔“
وضاحت:
➊ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا، سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں انہوں نے جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہجرت حبشہ بھی کی پھر غزوہ موتہ میں سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو بعد از عدت ان سے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا یہ چالیس ہجری کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد فوت ہوئیں۔ آپ عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ، محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ اور یحییٰ بن علی رحمہ اللہ کی والدہ ہیں اور یہ تینوں باہم اخیافی بھائی تھے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا، ام المومنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی اخیافی بہن بھی تھیں۔
➋ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے ہاں محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ کی احرام باندھنے سے قبل ہی ولادت ہوئی، وہ نفاس میں تھیں، حالت نفاس کو غسل پاک نہیں کرتا، یہ حکم غسل، سنتِ احرام میں سے ہے اگر صرف وضو کر لیا جائے تو بھی احرام کے لیے کافی ہے لیکن غسل افضل ہے۔
➋ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے ہاں محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ کی احرام باندھنے سے قبل ہی ولادت ہوئی، وہ نفاس میں تھیں، حالت نفاس کو غسل پاک نہیں کرتا، یہ حکم غسل، سنتِ احرام میں سے ہے اگر صرف وضو کر لیا جائے تو بھی احرام کے لیے کافی ہے لیکن غسل افضل ہے۔