حدیث نمبر: 444
أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ آذَانِي الْقَمْلُ أَنْ أَحْلِقَ رَأْسِي ثُمَّ أَصُومَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَنْسُكُ بِهِ " .
نوید مجید طیب

سیدنا کعب بن عجرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا (جب جوؤں نے مجھے تکلیف دی) کہ اپنا سر منڈوا دوں پھر تین دن روزے رکھوں یا چھ مساکین کو کھانا کھلاؤں کیونکہ آپ ﷺ کو معلوم ہو گیا تھا کہ میرے پاس قربانی نہیں جسے بطور فدیہ دوں۔

وضاحت:
➊ حاجی پر حالت احرام میں کچھ پابندیاں ہیں مثلاً سر نہیں ڈھانپ سکتا، ناخن بال تراش نہیں سکتا، خوشبو استعمال نہیں کر سکتا ہے لیکن اگر بیماری کے باعث ایسا کچھ کرے تو اس کا فدیہ اداء کرنا ہوتا ہے۔
➋ بعض ایسی پابندیاں ہیں کہ اگر اُن کو توڑے تو فدیہ نہیں آتا بلکہ حج باطل ہو جاتا ہے۔
➌ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِؕ-فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِۚ-وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗؕ-فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍۚ-فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْٙ-فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِۚ-فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْؕ-تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠﴾ [البقرة: 196]
اور تم حج اور عمرہ اللہ کے لیے پورا کرو پھر اگر تمھیں (راستے میں) روک دیا جائے تو قربانی کے لیے جو میسر ہو (وہ قربان کر دو) اور اپنے سر نہ منڈاؤ حتیٰ کہ قربانی اپنے حلال ہونے کی جگہ پہنچ جائے، پھر اگر کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (اور وہ سرمنڈوا لے) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے، پھر جب تمھیں امن مل جائے (اور تم حج سے پہلے وہاں پہنچ جاؤ) تو تم میں سے جس نے حج (کے احرام) تک عمرے کا فائدہ اٹھایا وہ (احرام کھول کر) جو میسر ہو قربانی کرے، پھر جو شخص (قربانی) نہ پائے تو وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات اس وقت جب تم گھر لوٹ آؤ، یہ پورے دس (روزے) ہیں۔ یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے پاس نہ رہتے ہوں اور تم اللہ سے ڈرو اور جان لو بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
➍ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو ہر مسکین کو نصف صاع (تقریباً ایک کلو) غلہ دینے کا حکم ہوا تھا۔ [صحیح بخاری: 4517]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 444
تخریج حدیث سنن ابن ماجہ، المناسک، باب فدیہ المحصر، رقم: 3080 وقال الالبانی: حسن