حدیث نمبر: 443
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ ، وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ هَدْيٌ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ ، وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ وَمَعَهُ هَدْيٌ ، فَقَالَ : أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَيَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا إِلا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ ، فَقَالُوا : أَنَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ ؟ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ وَلَوْلا أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَحَلَلْتُ " ، وَأَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ ، فَلَمَّا طَهُرَتْ وَأَفَاضَتْ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ ؟ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ ، وَأَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَقَبَةِ وَهُوَ يَرْمِيهَا ، فَقَالَ : لَكُمْ هَذِهِ خَاصَّةً ؟ قَالَ : " لا بَلْ لِلأَبَدِ " .
نوید مجید طیب

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے حج کا احرام باندھا، نبی اکرم ﷺ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے ان کے ساتھ بھی قربانی کا جانور تھا تو انہوں نے نیت یہ کی تھی کہ میرا احرام بھی وہی ہے جس نیت سے رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا ہے اور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ حج کو عمرہ بنا لیں کعبہ کا طواف کریں پھر بال تراشیں اور احرام کھول دیں ماسوائے ان لوگوں کے جو جانور ساتھ لائے ہیں (کیونکہ ان کا حج قرآن تھا قرآن میں عمرے کے بعد احرام نہیں کھولا جاتا اس احرام میں منی جانا ہوتا ہے) تو وہ کہنے لگے کیا ہم اس حال میں منی جائیں گے کہ ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو گی یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بات اب ظاہر ہوئی ہے اگر پہلے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر ہدی ساتھ نہ ہوتی تو میں عمرہ کر کے احرام کھول دیتا“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں انہوں نے سارے مناسک ادا کیے لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کیا وہ جب پاک ہوئیں تو طواف کر لیا اور کہنے لگیں اے اللہ کے رسول ﷺ تمام لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے لوٹیں گے اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ اس پر آپ ﷺ نے عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ انہیں تنعیم لے جائیں (وہاں سے عمرہ کی نیت کر کے) عمرہ کریں تو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کے بعد ذوالحجہ میں عمرہ ادا کیا، سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے اس وقت ملے جب آپ ﷺ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مار رہے تھے انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ کیا یہ (عمرہ اور حج کے درمیان احرام کھول دینا) صرف آپ لوگوں کے ساتھ خاص ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں ہمیشہ کے لیے یہی ہے۔“

وضاحت:
➊ کمزور خواتین اور بچوں کو آدھی رات کے بعد فجر سے پہلے مزدلفہ سے منی آنے کی اجازت دی گئی تھی جن میں ام المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔
➋ ضعیف و کمزور لوگوں کے لیے یہ حکم اب بھی برقرار ہے۔
➌ دو اکٹھی نمازیں پڑھتے ہوئے ایک اذان کہی جائے گی چونکہ لوگ موجود ہیں دوسری اذان کی ضرورت نہیں جبکہ ہر نماز کے لیے علیحدہ اقامت کہی جائے گی جیسا کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ باذان واحد و اقامتین اذان ایک کہی اور دو اقامتیں کہیں۔ [صحیح مسلم: 1218]
➍ سفر حج میں اتباع سنت کے بہت اسباق ہیں عقل کا تقاضا ہے کہ آدمی عبادت کے لیے گیا ہوا ہے نمازیں اپنے وقت پر پڑھے عصر کے وقت ویسے ہی عرفات میں اذکار میں مشغول ہوتا ہے تو وقت پر نماز پڑھے لیکن شریعت کہتی ہے نہیں آج وقت سے پہلے ظہر کے وقت ہی ظہر وعصر جمع کر لو اسی طرح نماز مغرب مزدلفہ جاتے ہوئے راستے میں مغرب کا وقت نکل رہا ہوتا ہے لیکن عقل کی نہیں مانی جاتی شریعت کہتی ہے آج مغرب مزدلفہ ہی اداء کرنی ہے چاہیے آدھی رات ہو جائے جبکہ ہم نے بعض پاکستانی بھی تبلیغی جماعت کا لیبل لگانے والے اپنی آنکھوں سے دیکھے کہ وہ عرفات سے نکلتے ہی اس خیال سے ہیں کہ مغرب کا وقت جا رہا ہے نماز شروع کر دیتے تھے، ہم جامعات کے طلبہ اُن کو منع کرتے، مسئلہ بتاتے پر وہ کسی کی نہ سنتے اور جگہ جگہ نمازیں پڑھنا شروع کر دیتے اور واپس آ کر یہی تبلیغ کی ذمہ داری نبھاتے ہیں جن کو خود سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا علم نہیں اور نہ ہی حق مانتے ہیں اور نہ ہی مطالعہ کرتے ہیں بس تبلیغ کا شوق ہے، جہالت سے کوئی تبلیغ نہیں ہوتی نیم حکیم خطرہ جان اور نیم ملاں خطرہ ایمان۔
عقل قربان کن بہ پیش مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
حسبی اللہ گو کہ اللہ از کفی
ترجمہ: جناب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عقل ورائے کو قربان کر دے اور حسبی اللہ کا یہ پیغام ہے کہ صرف اللہ ہی کافی ہے۔
➎ حج کی تین اقسام ہیں: حج تمتع: عمرہ کر کے احرام کھول دو سارے جائز کام کرو بیوی کے پاس جاؤ پھر آٹھ ذوالحجہ کو حج کے لیے دوبارہ احرام باندھ لو۔
حج افراد:
صرف اکیلا حج کرنے کی نیت سے احرام باندھنا، یوم الترویحہ آٹھ ذوالحجہ کو سیدھے منی چلے جائیں اور حج کے ارکان ادا کریں۔ یہ حج افراد ہے۔
حج قران:
عمرہ اداء کر کے آٹھ ذوالحجہ تک احرام میں رہیں پھر اسی احرام میں حج ادا کریں یہ اس کے لیے ہے جو قربانی کا جانور ساتھ لایا ہو۔
➏ مقام تنعیم جہاں پر عصر حاضر میں مسجد عائشہ ہے یہاں سے ہر ایک کا احرام باندھ کر عمرہ اداء کرنا درست نہیں کیونکہ یہ میقات نہیں ہے بلکہ حرم سے باہر کی حدود ہے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا چونکہ میقات سے عمرہ و حج دونوں کی نیت سے آئی تھیں حیض کے باعث طواف نہ کر سکیں کیونکہ حائضہ نہ نماز پڑھتی ہے نہ مسجد میں جاتی ہے نہ طواف کرتی ہے تو انہوں نے حج کے بعد تنعیم سے عمرہ کیا یعنی حل اور حرم کو جمع کیا آج بھی اگر کسی عورت کو حیض آجائے تو وہ تنعیم سے حج کے بعد عمرہ کرے گی جبکہ جس کو حیض نہیں آیا پہلا عمرہ قضاء نہیں ہوا اس کا تنعیم سے احرام باندھنا درست نہیں کیونکہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے ایسا نہیں کیا نہ ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی اور کو یہ حکم ملا۔
➐ اگر عمرہ کرنے کا زیادہ شوق ہو تو میقات پر جائیں وہاں سے احرام باندھ کر آئیں اور عمرہ کریں مکہ سے قریب ترین میقات طائف ہے، اس میقات سے بھی مجھے احرام باندھنے کا شرف حاصل ہوا ہے اللہ قبول فرمائے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب عمارة الأرضين / حدیث: 443
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحج، باب تقضى الحائض المناسك كلها الخ، رقم: 1651، صحیح مسلم، الحج، باب بيان وجوه الاحرام .... الخ، رقم: 1213