حدیث نمبر: 44
وَأَنْبَأَنَا وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ ، أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : صَلَّى مُعَاوِيَةُ بِالْمَدِينَةِ صَلاةً فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ , فَقَرَأَ فِيهَا : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 لأُمِّ الْقُرْآنِ , وَلَمْ يَقْرَأْ بِهَا لِلسُّورَةِ الَّتِي بَعْدَهَا , حَتَّى قَضَى تِلْكَ الصَّلاةَ , وَلَمْ يُكَبِّرْ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا , حَتَّى قَضَى تِلْكَ الصَّلاةَ , فَلَمَّا نَادَاهُ مَنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ : يَا مُعَاوِيَةُ , أَسَرَقْتَ الصَّلاةَ ؟ أَمْ نَسِيتَ ؟ ! قَالَ : فَلَمَّا صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ قَرَأَ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 , لِلسُّورَةِ الَّتِي بَعْدَ أُمِّ الْقُرْآنِ , وَكَبَّرَ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا . سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَدْ خُولِفَ ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ فِي هَذَا الإِسْنَادِ , وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ .
نوید مجید طیب

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ سے روایت ہے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں ایک جہری نماز پڑھائی تو سورۃ فاتحہ سے پہلے «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» پڑھی لیکن فاتحہ کے بعد جو سورۃ پڑھی ، اس کے ساتھ (جہرا) بسم اللہ نہ پڑھی حتی کہ نماز پوری کر دی اور جب سجدہ کے لیے گئے تو (بآواز بلند) اللہ اکبر بھی نہ کہی حتی کہ وہ نماز پوری کی ہر طرف سے مہاجر و انصار نے آوازیں بلند کیں اے معاویہ! نماز کی چوری کی ہے یا بھول گئے ہو؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد جو نماز بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اس میں ہر سورۃ کے ساتھ بسم اللہ بھی پڑھی اور سجدہ میں جاتے ہوئے بآواز بلند تکبیر بھی کہی۔

وضاحت:
➊ اس حدیث میں ہر سورۃ سے پہلے جہری بسم اللہ پڑھنے کا ذکر ہے اس مسئلہ میں راجح یہی ہے کہ بسم اللہ فاتحہ کے ساتھ سری پڑھی جائے بقیہ سورتوں کے ساتھ جہری پڑھی جائے۔ اور اگر اونچی پڑھ لی جائے تو اس طرح کی احادیث سے جواز ثابت ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
➋ اگر امام سے غلطی ہو جائے تو اہل علم مقتدیوں کو اچھے انداز سے آگاہ کرنا چاہیے۔
➌ شرعی امور میں اصلاح کو قبول کر لینا اسلاف امت کا طرز عمل تھا جو مرور زمانہ کے ساتھ ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کی نظر ہوتا جا رہا ہے۔ واضح شرعی نصوص کو دیکھ سن لینے کے باوجود لوگ تقلید جامد چھوڑنے کو تیار نہیں۔ «هداهم الله»
➍ اس حدیث سے صحابہ رضی اللہ عنہم کی جرات اور دین کی حرص بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کس طرح سے پاسداری کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في النداء في السفر / حدیث: 44
تخریج حدیث السنن الكبرى للبيهقي: 49/2 ، والحاكم في المستدرك وقال صحيح على شرط مسلم۔