حدیث نمبر: 43
وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الصَّلاةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 .
نوید مجید طیب

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نماز کا (بآواز بلند) آغاز ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] سے فرماتے تھے۔

وضاحت:
➊ ایک ہی مفہوم کی دو تین احادیث بعض دفعہ امام صاحب جب اکٹھی لاتے ہیں تو ان کی اسناد مختلف ہوتی ہیں، جن میں کئی علم حدیث سے متعلقہ فنی فوائد ہیں۔ جس سے اہل علم اور اس فن کے ماہرین مستفید و محظوظ ہوتے ہیں۔
➋ ان احادیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ امام کو جہری نماز میں قرآت کرتے ہوئے الحمد للہ سے قرآت بآواز بلند شروع کرنی چاہیے قراءت سے ماقبل والی دعا استفتاح اور بسم اللہ آہستہ آواز سے پڑھنی چاہیے یہ مراد نہیں کہ پہلے کچھ نہیں پڑھنا۔
➌ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ قراءت فاتحہ کا آغاز الحمد للہ سے کرتے۔ [صحیح بخاری: 743، صحیح مسلم: 399]
صحیح مسلم کی مذکورہ روایت میں یہ بھی ہے کہ قرآت کے اول و آخر بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے۔ ایک روایت میں ہے۔ «كانوا يسرون» بسم اللہ سری پڑھتے تھے۔ [صحیح ابن خزیمہ: 491]
ان روایات کا ما حاصل یہ ہے کہ قرآت کے آغاز میں بسم اللہ سرا پڑھتے تھے جہرا نہیں پڑھتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب!
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في النداء في السفر / حدیث: 43
تخریج حدیث مسند احمد : 441/21، رقم : 14051 وقال الارنوؤط: اسناده صحيح على شرط مسلم؛ مصنف عبدالرزاق : 88/2؛ السنن الكبرى للبيهقي : 52/2؛ وصححه ابن حبان: 217,216/3، رقم : 1791,1789۔