حدیث نمبر: 436
وَأَخْبَرَنِي وَأَخْبَرَنِي بَعْضُ ، أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا وَجَدْتُ لَنَا وَلِهَذَا الْحَيِّ مِنَ الأَنْصَارِ مَثَلا إِلا مَا قَالَ طُفَيْلٌ الْغَنَوِيُّ : جَزَى اللَّهُ عَنَّا جَعْفَرًا حِينَ أَشْرَفَتْ بِنَا نَعْلُنَا فِي الْوَاطِئِينَ فَزَلَّتِ أَبَوْا أَنْ يَمَلُّونَا وَلَوْ أَنَّ أَمَّنَا تُلاقِي الَّذِي يَلْقَوْنَ فِينَا لَمَلَّتِ هُمُو خَلَطُونَا بِالنُّفُوسِ وَأَلْجَئُوا إِلَى حُجُرَاتٍ أَدَفَأَتْ وَأَظَلَّتِ " . قَالَ لَنَا الطَّحَاوِيُّ : لَمَّا حَدَّثَنِي الْمُزَنِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ لَهُ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ : إِنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ بِالشِّعْرِ يَزِيدُونَ فِي هَذِهِ الْقَصِيدَةِ بَيْتَيْنِ آخَرَيْنِ يَدْخُلانِ فِي هَذَا الْمَعْنَى وَقَالُوا : هَلُمُّوا الدَّارَ حَتَّى تَبَيَّنُوا وَتَنْجَلِيَ الْغَمَّاءُ عَمَّا تَجَلَّتِ وَمِنْ بَعْدِ مَا كُنَّا لِسَلْمَى وَأَهْلُنَا عَبِيدًا وَمَلَّتْنَا الْبِلادُ وَمَلَّتِ قَالَ : فَاسْتَحْسَنَهُمَا الْمُزَنِيُّ لأَنَّهُمَا يَدْخُلانِ فِي الْمَعْنَى الَّذِي أَنْشَدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الثَّلاثَةَ الأَبْيَاتِ الأُوَلَ .
نوید مجید طیب

امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے بعض اہل علم نے بتایا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہماری اور انصار کی مثال شاعر طفیل غنوی کے ان اشعار میں ہے: ”اللہ جزائے خیر دے جعفر کو جب ہم دیار غیر میں بھٹک رہے تھے، قدم پھسل رہے تھے۔ انہوں نے ہمارا اتنا بوجھ اٹھایا اگر ہماری ماں بھی اتنا اٹھاتی تو تھک جاتی۔ انہوں نے ہمیں اپنا ہی سمجھا اور ہمیں اپنے گرم خیموں اور سایہ بانوں میں پناہ دی۔“

وضاحت:
➊ امام طحاوی رحمہ اللہ کہتے ہیں امام مزنی رحمہ اللہ نے یہ روایت جب بیان کی تو میرے والد رحمہ اللہ نے فرمایا: اہل علم مزید دو اشعار کا اضافہ کرتے ہیں جن کا مفہوم ان ہی اشعار سے ملتا ہے کہ اور وہ کہنے لگے آ جاؤ ہمارے گھر حتیٰ کہ ان کے حسنِ سلوک سے ہمارے غم دور ہو گئے، اور ان کے احسانات اندھے کو بھی نظر آنے لگے۔ ان احسانات کے بعد ہم سلمیٰ اور اس کے قبیلہ کے احسانات کے غلام اور گروی ہیں جبکہ اس سے قبل ہم سے تمام شہر تنگ آ چکے تھے۔
➋ یہ زمانہ جاہلیت کے ایک شاعر طفیل غنوی کا کلام ہے جس کے ساتھ ایک قبیلے نے احسان کیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انصار قبیلہ نے ہمارے ساتھ بھی اسی طرح حسنِ سلوک کیا ہے گویا شاعر نے یہ ہماری مثال اپنے اشعار میں بیان کر دی۔
➌ معلوم ہوا اچھا شعر کسی کافر کا بھی پڑھا جا سکتا ہے۔
➍ شعر و شاعری شرعاً فی نفسہ مذموم نہیں ہے البتہ اس کی طرف حد درجہ کا رجحان ناپسندیدہ ہے۔ مولانا حالی رحمہ اللہ نے اپنے زمانے کے شعراء کا خوب نقشہ کھینچا ہے: برا شعر کہنے کی گر کچھ سزا ہے
تو وہ محکمہ جس کا قاضی خدا ہے
عبث جھوٹ بکنا اگر ناروا ہے
مقرر جہاں نیک و بد کی سزا ہے
گنہگاروں چھوٹ جائیں گے سارے
جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے
یہ وہ شاعر ہیں جو ہر خیال کو اچھوتے انداز میں شعر کے قالب میں ڈھال دیتے ہیں وہ خیال شیطانی ہے یا رحمانی اس سے ان کو غرض نہیں ہے۔ یہی شاعری قابلِ مذمت ہے۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی دفاعِ اسلام و نبیِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شاعری کی ہمت افزائی فرمائی۔ [صحيح مسلم: 2490]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب عمارة الأرضين / حدیث: 436
تخریج حدیث کنز العمال: 56/14، حلية الأولياء، رقم الحديث: 13869