حدیث نمبر: 435
وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ بَهَشَ إِلَيْهِ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ مِنَ الأَنْصَارِ يَبْكُونَ فَرَقَّ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَطَبَ وَقَالَ هَذِهِ الْمَقَالَةَ .
نوید مجید طیب

جرجانی رحمہ اللہ کی حدیث میں یہ بھی کہا کہ نبی اکرم ﷺ جب مرض الموت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف نکلے تو انصار کی عورتیں اور بچے اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ رونے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو تسلی دی پھر خطبہ دیا پھر مذکورہ کلمات ارشاد فرمائے۔

وضاحت:
➊ غیلان بن جریر رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تم لوگوں نے خود اپنا نام انصار رکھا ہے یا اللہ نے تمہارا نام رکھا ہے؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ نے ہمارا نام انصار رکھا ہے۔ [صحیح بخاری: 3776]
➋ یہ ایسی قوم تھی جس نے بغیر کسی عہدے اور لالچ کے اسلام اور اہل اسلام کی نصرت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس بے لوث قربانی کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ﴿وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾ [الحشر: 9]
اور (ان کے لیے) جنہوں نے ان سے پہلے اس گھر میں اور ایمان میں جگہ بنا لی ہے، وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انہیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔
➌ انصار نے اسلام کے لیے بڑی قربانیاں دیں، حق و باطل کے ہر معرکہ میں پیش پیش رہے۔ بڑے بڑے کفر کے سورماؤں کی گردنیں اڑائیں، میدانِ بدر میں سب سے پہلے مبارزت کا جواب دینے یہی لوگ اترے، قریش کے نمائندوں نے ان کے ہاتھوں ذبح ہونا پسند نہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کی طبعِ نازک کی لاج رکھتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا جنہوں نے جاتے ہی سردارانِ کفر کو واصلِ جہنم کیا۔
➍ غزوہ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے تاریخی الفاظ ارشاد فرمائے: «الأنصار شعار والناس دثار» [صحیح بخاری: 4330]
انصار شعار (جسم کے ساتھ لگا ہوا کپڑا) ہیں اور دوسرے لوگ دثار (اوپر لیا جانے والا کپڑا) ہیں۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قبائل کا آدمی ہونے کی تمنا کی، ان کا بدلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ادا نہ کر سکے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صبر کرنا تمہارا بدلہ میں حوضِ کوثر پر ہی ادا کروں گا۔ [صحیح بخاری: 3792]
دورِ حاضر میں بھی انصاری بکثرت دین سے محبت رکھتے ہیں اور کم ہی کسی بڑے عہدے پر پائے گئے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب عمارة الأرضين / حدیث: 435
تخریج حدیث صحیح بخاری، فضائل الانصار، باب قول النبي ﷺ اقبلوا من محسنهم وتجاوزوا عن مسيئهم، رقم: 3799