السنن المأثورة
باب عمارة الأرضين— زمینوں کی آبادکاری کا بیان
باب عمارة الأرضين باب: زمینوں کی آبادکاری کا بیان
حدیث نمبر: 417
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَقْطَعَ النَّاسَ الدُّورَ ، فَقَالَ حَيٌّ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ يُقَالُ لَهُمْ : بَنُو عَبْدِ بْنِ زُهْرَةَ : نَكِّبْ عَنَّا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلِمَ ابْتَعَثَنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَنْ ؟ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لا يُقَدِّسُ أُمَّةً لا يُؤْخَذُ لِلضَّعِيفِ مِنْهُمْ حَقُّهُ " .نوید مجید طیب
یحیی بن جعدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ، لوگوں کو گھروں (کی جگہ) عنایت فرمائی تو بنی زہرہ کے قبیلے جن کو بنو عبد بن زہرہ کہا جاتا تھا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دور رکھیں (یعنی ان کا گھر ہمارے پڑوس نہ ہو) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر مجھے اللہ تعالیٰ نے کیوں مبعوث کیا ؟ بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کو پاک نہیں کرتا جس سے کمزور کا حق وصول نہیں کیا جاتا۔“
وضاحت:
➊ یحییٰ بن جعدہ رحمہ اللہ کا اگرچہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں تاہم روایت موصولاً صحیح ثابت ہے۔
➋ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بڑے جلیل القدر صحابی تھے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے اور پانی کا لوٹا اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوتے، خدمتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں علم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی سیکھتے تھے، ان ہی کے عمل سے دینی مدارس کے طلبہ نے اساتذہ کی خدمت سیکھی ہے جبکہ جہالت کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طالب علم اپنے ہی استاذ کو مار پیٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں، یہ دینی مدارس اور کالجز میں بنیادی فرق ہے۔
➋ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بڑے جلیل القدر صحابی تھے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے اور پانی کا لوٹا اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوتے، خدمتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں علم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی سیکھتے تھے، ان ہی کے عمل سے دینی مدارس کے طلبہ نے اساتذہ کی خدمت سیکھی ہے جبکہ جہالت کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طالب علم اپنے ہی استاذ کو مار پیٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں، یہ دینی مدارس اور کالجز میں بنیادی فرق ہے۔