حدیث نمبر: 416
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ .
نوید مجید طیب

ابو زبیر رحمہ اللہ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث ایسے ہی بیان کی ہے۔

وضاحت:
➊ جفتی کے عوض قیمت وصول کرنا منع ہے ہاں اگر اکراماً استفادہ کرنے والا کچھ دے دے تو جواز موجود ہے۔ قبیلہ کلاب کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: اس آدمی نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم مادہ پر نر چھوڑتے ہیں تو ہمیں لوگ بلا مطالبہ کچھ دے دیتے ہیں۔ اس کا حکم کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا عطیہ لینے کی اجازت دے دی۔ [سنن ترمذی: 1274]
➋ ممانعت کی ایک حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ جو چیز فروخت کی جا رہی ہے اس کی مقدار معلوم نہیں اس لیے اس کی فروخت درست نہیں۔
➌ افزائش نسل کے لیے ٹیکے کا مصنوعی عمل جائز ہے یا نہیں، اس کے جواز پر تابیر النخل (نر کھجور کا بورا مادہ کھجور پر ڈالنے) سے استدلال کیا جا سکتا ہے لیکن انسانوں میں ایسا کرنا جائز نہیں۔
➍ بے اولاد خواتین جن کو حمل نہیں ٹھہرتا، جدید طبی طریقوں سے جرثومے آلات کے ذریعے ان کی بچہ دانی میں چھوڑے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ جرثومے اس کے خاوند سے لیے گئے ہوں۔ اس مسئلہ کے فقہ المعاصر میں جواز کے فتاویٰ موجود ہیں، اگر جرثومے غیر خاوند کے ہیں تو حرام و ناجائز مانند زنا ہے جو کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب تفسير الفرعة والعتيرة / حدیث: 416
تخریج حدیث صحیح مسلم ، المساقاة، باب تحريم فضل بيع الماء الذي يكون بالفلاة ممن يحتاج اليد ...... رقم : 1565 ۔