حدیث نمبر: 392
وَسَمِعْتُ وَسَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : ذَكَرْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ بَيْعًا كُنَّا نَبِيعُهُ لِيَتِيمٍ كَانَ فِي حِجْرِي , كُنَّا نَبِيعُ مِنَ الرَّجُلِ الطَّعَامَ وَالزَّيْتَ إِلَى أَجْلٍ مُسَمًّى بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ فَإِذَا فَرَغْنَا مِنْ بَيْعِهِ ذَهَبَ رَجُلٌ فَاشْتَرَى لَهُ الطَّعَامَ وَالْوَدَكَ فَوَفَّاهُ إِيَّاهُ فَقَالَ الْقَاسِمُ : " مَا كُنَّا نَرَى بِهَذَا بَأْسًا حَتَّى نَهَى عَنْهُ الأَمِيرُ فَإِذْ نَهَى عَنْهُ فَلا أُحِبُّهُ .نوید مجید طیب
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے ایک بیع کا ذکر کیا جو ہم ایک یتیم کی خاطر کرتے تھے جو میری پرورش میں تھا، ہم کھانے اور تیل کا سودا مقررہ مدت اور معلوم قیمت پر کرتے سودا طے ہونے کے بعد وہ آدمی جاتا اور مطلوبہ طعام، تیل خرید لاتا تو جتنا طے ہوا ہوتا پورا پورا آ کر دے دیتا تو قاسم رحمہ اللہ نے کہا اس بیع میں ہمیں کوئی حرج نہیں لگتا تھا حتی کہ امیر مدینہ نے اس سے منع کر دیا تو جب امیر نے منع کیا ہے تو میں یہ بیع کرنا پسند نہیں کرتا۔
وضاحت:
➊ یہ بیع السلف، یا بیع السلم دونوں ناموں سے جانی جاتی ہے، اسلام نے اس سودے کو حدود و قیود کے ساتھ باقی رکھا، اس کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی سے کہا جائے مجھے کالے رنگ کی موٹی ایرانی کھجور چاہیے پوری کلو ہو اور اگلے جمعہ کو چاہیے، کتنے میں لا کر دیں گے؟ سیل مین کہتا ہے 500 کی کلو مل جائے گی۔ سودا طے ہو گیا، جب آدمی پر اعتماد ہو، موسم اس چیز کا ہو یعنی مل جاتی ہو، دینی کب ہے؟ مدت معلوم ہو تو یہ سودا جائز ہے جیسے دکاندار کہتے ہیں منگوا کر دے سکتے ہیں۔ اگر نہ منگوا سکے یا اس صفت پر نہ ہو تو پیسے واپس کرے گا۔
لیکن ناپید یا خاص درخت کی شرط لگائے کہ اس درخت پر اس سال جو کھجور لگے گی وہ اتنے میں میری، یہ ناجائز ہے، کیا پتا اس سال کھجور نہ لگے، لہذا کیل معلوم، وزن معلوم اور اجل معلوم ہونا ضروری ہے۔
لیکن ناپید یا خاص درخت کی شرط لگائے کہ اس درخت پر اس سال جو کھجور لگے گی وہ اتنے میں میری، یہ ناجائز ہے، کیا پتا اس سال کھجور نہ لگے، لہذا کیل معلوم، وزن معلوم اور اجل معلوم ہونا ضروری ہے۔