حدیث نمبر: 391
: أَدْرَكْتُ النَّاسَ وَسَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فِي الدِّيَةِ : " عَلَى أَهْلِ الشَّاءِ الشَّاءُ " .نوید مجید طیب
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیت سے متعلق فرمایا: ”بکریوں کے مالکان سے دیت بکریوں کی صورت میں وصول کی جائے گی۔“
وضاحت:
➊ مقتول کے وارث کو بعض حالات میں قصاص کی بجائے دیت وصول کرنے کا حکم صادر کیا جاتا ہے اور بسا اوقات وارث خود قصاص کی بجائے دیت پر راضی ہو جاتا ہے، دیت قتل عمد کی صورت میں مجرم پر اور قتل شبہ عمد یا خطا کی صورت میں عاقلہ برادری (جو وراثت میں حقدار ہوتے ہیں) پر عائد ہوتی ہے۔
➋ اونٹوں کی صورت میں سو اونٹ جن میں پانچ سال سے بڑی حاملہ اونٹنیاں ہونی چاہئیں۔ گائے ہوں تو 200، اگر بکریاں ہوں تو دو ہزار، خاص قسم کے کپڑوں کی صورت میں 200 حلے بھی دیت میں دیے جا سکتے ہیں۔ [سنن ابی داؤد: 4542]
➌ دیت میں اصل سو اونٹ ہیں یا سو اونٹ کی قیمت۔ عہد نبوی میں اونٹ سستے مہنگے ہوتے رہتے تھے اس لیے کبھی بارہ ہزار درہم اور کبھی ایک ہزار دینار بھی مقرر ہوتی رہی ہے۔
➍ دیت ورثاء میں وراثت کی طرح تقسیم ہوگی، اگر ایک وارث دیت پر راضی ہو جائے باقی سارے قصاص چاہتے ہوں تو سب کو دیت ملے گی قصاص نہیں لیا جائے گا۔
➎ ہر سال حکومت دیت کی قیمت کا اعلان ماہ جولائی میں کرتی ہے جس پر عدالتیں عمل کرتی ہیں اس سال (2022-23ء) میں جو دیت کا اعلان کیا گیا ہے اس کے مطابق قیمت 4,333,053 روپے ہے جو کہ ہر سال 30,630 گرام چاندی (Silver) کے حساب سے متعین ہوتی ہے۔
➏ منہاج المسلم میں علامہ جزائری رحمہ اللہ نے لکھا ہے: 1۔ سو اونٹ، 2۔ دو سو گائے، 3۔ دو ہزار بکریاں، 4۔ بارہ ہزار درہم چاندی (اس سے مراد عہد نبوی کے خاص وزن کا درہم ہے)، 5۔ ایک ہزار دینار۔ ان پانچ اموال میں سے کوئی بھی قاتل حاضر کر دے تو مقتول کے ولی کو قبول کرنا لازم ہے۔
➐ علماء کی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اونٹ مہنگے ہوتے تو قیمت بڑھا دی جاتی تھی سستے ہوتے تو قیمت بھی اسی حساب سے کم ہو جاتی لہذا اصل اونٹ ہیں۔
➋ اونٹوں کی صورت میں سو اونٹ جن میں پانچ سال سے بڑی حاملہ اونٹنیاں ہونی چاہئیں۔ گائے ہوں تو 200، اگر بکریاں ہوں تو دو ہزار، خاص قسم کے کپڑوں کی صورت میں 200 حلے بھی دیت میں دیے جا سکتے ہیں۔ [سنن ابی داؤد: 4542]
➌ دیت میں اصل سو اونٹ ہیں یا سو اونٹ کی قیمت۔ عہد نبوی میں اونٹ سستے مہنگے ہوتے رہتے تھے اس لیے کبھی بارہ ہزار درہم اور کبھی ایک ہزار دینار بھی مقرر ہوتی رہی ہے۔
➍ دیت ورثاء میں وراثت کی طرح تقسیم ہوگی، اگر ایک وارث دیت پر راضی ہو جائے باقی سارے قصاص چاہتے ہوں تو سب کو دیت ملے گی قصاص نہیں لیا جائے گا۔
➎ ہر سال حکومت دیت کی قیمت کا اعلان ماہ جولائی میں کرتی ہے جس پر عدالتیں عمل کرتی ہیں اس سال (2022-23ء) میں جو دیت کا اعلان کیا گیا ہے اس کے مطابق قیمت 4,333,053 روپے ہے جو کہ ہر سال 30,630 گرام چاندی (Silver) کے حساب سے متعین ہوتی ہے۔
➏ منہاج المسلم میں علامہ جزائری رحمہ اللہ نے لکھا ہے: 1۔ سو اونٹ، 2۔ دو سو گائے، 3۔ دو ہزار بکریاں، 4۔ بارہ ہزار درہم چاندی (اس سے مراد عہد نبوی کے خاص وزن کا درہم ہے)، 5۔ ایک ہزار دینار۔ ان پانچ اموال میں سے کوئی بھی قاتل حاضر کر دے تو مقتول کے ولی کو قبول کرنا لازم ہے۔
➐ علماء کی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اونٹ مہنگے ہوتے تو قیمت بڑھا دی جاتی تھی سستے ہوتے تو قیمت بھی اسی حساب سے کم ہو جاتی لہذا اصل اونٹ ہیں۔