حدیث نمبر: 369
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا كُنَّا نُخْرِجُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو (فی کس کے حساب سے) دیا کرتے تھے۔

وضاحت:
➊ ماہ رمضان کے اختتام پر نماز عید کی ادائیگی سے قبل صدقہ فطر جسے فطرانہ کہا جاتا ہے ہر بندے پر فرض ہے، امیر ہو غریب، دودھ پیتا بچہ ہو یا بوڑھا، غریب آدمی دوسروں سے صدقہ وصول کر کے ادا کرے۔
➋ فطرانے کی ادائیگی کے لیے روزے رکھنا شرط نہیں، اگر کسی نے عذر کی بنا پر روزے نہیں رکھے یا کوئی بچہ عید سے ایک دن پہلے یا چاند رات کو پیدا ہوا اس پر بھی فطرانہ فرض ہے جو کہ ایک صاع تقریباً اڑھائی کلو فی کس کے حساب سے ہے۔
➌ آدمی جو غذا عام طور پر کھاتا ہے اس سے ہی فطرانہ ادا کرے گا۔ جس ملک میں رہ رہا ہے اس ملک کے حساب سے وہاں جو کھاتا ہے اس کا ایک صاع ادا کرے گا۔
➍ شریعت نے بعض صدقات مال کی صورت میں ادا کرنے کا حکم دیا کہ ایک دینار صدقہ کر لے اور بعض صدقات کے لیے طعام کی شرط لگائی ہے، یقیناً اس کی کوئی نہ کوئی حکمت ہے، فطرانہ لازمی ہے کہ طعام ہی دیا جائے پیسے نہ دیے جائیں اور یہ بہت سے جید علماء رحمہ اللہ کا فتویٰ ہے اور فطرانے کا مقصود بھی یہ ہے کہ نماز عید سے قبل ادا کیا جائے کہ غریب کے گھر راشن آجائے، عید والے دن وہ بھی پیٹ بھر کر کھائیں نہ کہ پیسے لے کر نیٹ کے پیکج کرائیں، یا سرخی پاؤڈر خریدیں یا کیبل کا بل ادا کریں، یا انگریزی سکولوں کی فیس دیں، اس لیے وہی کام کرنا چاہیے جو الفاظ احادیث تقاضا کرتے ہیں الا یہ کہ قرینہ صارفہ موجود ہو۔
➎ راجح بات صدقہ فطر پورا صاع دینا ہے، نصف صاع مختلف فیہ ہے، نصف صاع بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجتہاد تھا جس پر صحابہ رضی اللہ عنہم بھی متفق نہیں تھے۔
➏ حدیث کے الفاظ مسلمان اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ صدقہ فطر صرف مسلمانوں کی طرف سے ادا کیا جائے گا۔
➐ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صدقہ فطر فرض قرار دیا: «طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين فمن أداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة ومن أداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات»
روزے کو لغو اور نامناسب باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کے لیے، جس نے نماز عید الفطر سے پہلے یہ ادا کیا اس کا یہ قبول شدہ صدقہ ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ ایک عام صدقہ ہے۔ (صدقہ فطر نہیں) [سنن ابن ماجہ: 1827]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صدقة الفطر / حدیث: 369
تخریج حدیث سنن ابی داؤد ،الزکاۃ، باب کم یؤدی فی صدقۃ الفطر، رقم : 1618، سنن نسائی، الزکاۃ، باب الدقیق، رقم : 2514 وقال الالبانی: حسن صحیح، دون ذکر الدقیق، سنن دار قطنی : 146/2 ، صحیح ابن خزیمہ : 88/4، رقم : 2414