السنن المأثورة
باب الحق في الركاز— دفینہ کی زکاۃ کا بیان
باب الحق في الركاز باب: دفینہ کی زکاۃ کا بیان
حدیث نمبر: 361
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”دفن شدہ خزانہ ملنے پر پانچواں حصہ زکاۃ ہے۔“
وضاحت:
➊ کسی بنجر و بے آباد زمین کی کھدائی میں خزانہ مل جائے تو اس کا پانچواں حصہ بیت المال میں عام مسلمانوں کی منفعت کے لیے دینا شرعی قانون ہے، چونکہ مال بلا مشقت ملا ہے اور اس مال کا مالک نامعلوم ہے، اس کو پاک اور حلال کر کے کھانے کا یہی طریقہ ہے کہ خمس ادا کیا جائے۔
➋ جس کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال اس شخص کی ملکیت ہوگا جس کو خزانہ ملا ہے۔
➌ آج کل ایسے اموال کو حکومتِ وقت کا مکمل طور پر قبضے میں لے لینا غیر شرعی ہے۔
➋ جس کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال اس شخص کی ملکیت ہوگا جس کو خزانہ ملا ہے۔
➌ آج کل ایسے اموال کو حکومتِ وقت کا مکمل طور پر قبضے میں لے لینا غیر شرعی ہے۔