حدیث نمبر: 333
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : وَاصِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاصَلُوا فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لَوْ أَنَّ الشَّهْرَ مُدَّ لِي لَوَاصَلْتُ وِصَالا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ ، إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ : إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " .
نوید مجید طیب

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے وصال کیا تو صحابہ نے بھی وصال کیا یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی (یہ مہینے کا آخر تھا چاند نظر آگیا) تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”اگر یہ ماہ میرے لیے لمبا ہو جاتا (یعنی کچھ دن ہوتے عید کو) تو میں ایسا وصال کرتا کہ ضد کرنے والے ضد چھوڑ دیتے (میں نے کہا نا کہ) میں تمہاری طرح نہیں میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔“

وضاحت:
➊ وصال سے مراد یہ ہے کہ مغرب کے وقت آدمی روزہ افطار نہ کرے، نہ رات کو کچھ کھائے نہ سحری کو کچھ کھائے، یعنی دو دو تین تین دن کا ایک روزہ وصال کہلاتا ہے۔
➋ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وصال کی طاقت رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ جنتی میوے رات کو کھلا دیتے تھے جن سے معدے کو تقویت مل جاتی اور روزہ نہ ٹوٹتا۔
➌ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اس سے مراد معارف کی غذا لی ہے جو کہ سرگوشی، مناجات اور اللہ تعالیٰ کا قرب یعنی روحانی غذا ہے۔
➍ ابتدا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفقت فرماتے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وصال سے منع کیا تھا، کچھ نے اس کے باوجود وصال کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے دن کا بھی ارادہ وصال فرمایا لیکن چاند نظر آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس ماہ میں کچھ روز باقی ہوتے تو پھر دیکھتے ضدی کہاں تک ساتھ دیتے ہیں، اب وصال منع ہے۔
«لست مثلكم» میں تمہاری طرح نہیں ہوں کا یہ مطلب نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہی نہیں، بشریت کا انکار نہ صرف قرآن کا انکار ہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا بھی انکار ہے، کیا غیر بشر سے اللہ تعالیٰ نے کسی کو نبی بنایا؟ ہرگز نہیں، انکارِ بشریت انکارِ نبوت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ﴾ [آل عمران: 79]
کسی شخص کو لائق نہیں کہ اللہ اسے کتاب و حکمت اور نبوت عطا کرے۔۔۔
اور ﴿ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا﴾ [الشورى: 51]
اور کسی بشر کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے۔۔۔
تمہاری طرح کا نہیں ہوں کا وہی مطلب ہے جو خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا رب مجھے کھلاتا ہے لیکن جس دل میں کجی ہے وہ اس سے نور ثابت کرتا ہے۔
➏ اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کا اعزاز جنوں اور فرشتوں کو نہیں انسانیت کو بخشا ہے، کیونکہ انسان جنوں اور نوری فرشتوں سے افضل ہے لیکن پتا نہیں کیوں ہندومت سے متاثر ایک گمراہ عقائد والا گروہ اپنا اعزاز نوریوں کو دینے پر تلا ہوا ہے۔ عقیدہ وحدت الوجود، روحوں کا واپس آنا، جمادات کو پوجنا، مخلوق میں کرشمے ماننا، اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں تقسیم در تقسیم تصور کرنا ہندومت کے عام عقائد ہیں اور ان ہی عقائد کا نام تبدیل کر کے اس فرقے نے اپنے عقائد بنائے ہوئے ہیں، اس کے باوجود کہتے ہیں کہ یہ اہل سنت کے عقائد ہیں، اہل سنت ان عقائد و نظریات سے اسی طرح بری ہیں جس طرح بھیڑیا یوسف علیہ السلام کے خون سے بری تھا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في النهي عن الوصال في الصيام / حدیث: 333
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصوم، باب الوصال، رقم : 1961، صحیح مسلم، الصيام، باب النهي عن الوصال في الصوم، رقم : 1104