حدیث نمبر: 327
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ عَلَى مِنْبَرِ الْمَدِينَةِ وَأَخْرَجَ قُصَّةً مِنْ كُمِّهِ ، فَقَالَ : أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ ، وَقَالَ : " إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَهَا نِسَاؤُهُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ يَقُولُ : " إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ " .
نوید مجید طیب

حمید بن عبد الرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے منبر مدینہ پر عاشوراء کے دن سنا انہوں نے اپنی آستین سے بالوں کا ایک گچھا نکال کر فرمایا : ”اے اہل مدینہ تمہارے علماء کدھر گئے ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے اس سے منع فرمایا اور فرمایا تھا کہ : بنو اسرائیل اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی خواتین نے یہ بناوٹی بال لگائے۔“ پھر فرمایا: ”میں نے اس دن رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ: میں نے روزہ رکھا ہے جو چاہیے اس دن کا روزہ رکھے۔“

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صيام عاشوراء / حدیث: 327
تخریج حدیث صحیح بخاری احادیث الانبياء، باب رقم : 3468، صحیح مسلم، الصيام، باب صوم يوم عاشوراء، رقم : 1129