السنن المأثورة
باب صيام من أصبح جنبا— جنابت کی حالت میں روزہ کا بیان
باب صيام من أصبح جنباً باب: جنابت کی حالت میں روزہ کا بیان
حدیث نمبر: 322
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَيْهِمْ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَهُمُ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلاحَى رَجُلانِ ، فَقَالَ : " إِنِّي خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلاحَى فُلانٌ وَفُلانٌ وَلَعَلَّ ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ " .نوید مجید طیب
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف نکلے لیلۃ القدر کے بارے میں بتانا چاہتے تھے کہ دو آدمی لڑ پڑے تو رسول اللہ ﷺ نے (بعد میں) فرمایا : ”میں تمہیں لیلۃ القدر بتانے نکلا تھا فلاں فلاں جھگڑ رہے تھے شاید اسی میں تمہاری بہتری ہو تم اسے انتیسویں ستائیسویں اور پچیسویں تاریخوں میں تلاش کرو۔“
وضاحت:
➊ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ 1 وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ 2 لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ 3 تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ 4 سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ 5﴾ [القدر: 1-5]
بلاشبہ ہم نے اسے قدر کی رات میں اتارا۔ اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ قدر کی رات کیا ہے؟ قدر کی رات ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے متعلق اترتے ہیں۔ وہ رات فجر طلوع ہونے تک سراسر سلامتی ہے۔
➋ لیلۃ القدر رمضان میں ہونے کی صراحت خود قرآن نے کی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ [البقرة: 185]
"رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت کی واضح اور حق باطل سے جدا کرنے والی دلیلیں ہیں، پھر تم سے جو شخص اس مہینے کو پائے تو اسے چاہیے کہ اس کے روزے رکھے اور جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا اور تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو۔"
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے پورے آخری عشرے میں شب بیداری، اعتکاف اور گھر والوں کو جگانے کا اہتمام کرتے تھے۔ [البخاری: 2024]
➍ لیلۃ القدر دعا کی قبولیت کی ایک گھڑی ہے ہر سال لیلۃ القدر بھی چاند کی طرح گھومتی رہتی ہے ضروری نہیں ایک سال ستائیس کو آئی تو آئندہ بھی ستائیس کو ہی آئے گی اس لیے آخری عشرے میں تلاش کرنی چاہیے۔
➎ جس نے لیلۃ القدر میں عقیدہ توحید، ایمان اور خالص نیتِ ثواب سے عبادت کی اس کے گناہ معاف ہوں گے اسی طرح لیلۃ القدر کے علاوہ ہر اذان و اقامت کے درمیان کا وقت، فرضوں کے بعد کا وقت، حالتِ سفر میں، بارش کے نزول کے وقت، ہر روز رات کے آخری پہر اور جمعہ کے روز بھی دعا کی قبولیت کی گھڑیاں موجود ہیں یہ گھڑیاں ہر صحیح العقیدہ اور خالص نیت والے کو میسر ہیں بس انسان متلاشی ہونا چاہیے محض اوہام اور امیدیں انسان کے کام نہیں آتیں ﴿وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى﴾ [النجم: 39] عمل کام آتا ہے: عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری
بلاشبہ ہم نے اسے قدر کی رات میں اتارا۔ اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ قدر کی رات کیا ہے؟ قدر کی رات ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے متعلق اترتے ہیں۔ وہ رات فجر طلوع ہونے تک سراسر سلامتی ہے۔
➋ لیلۃ القدر رمضان میں ہونے کی صراحت خود قرآن نے کی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ [البقرة: 185]
"رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت کی واضح اور حق باطل سے جدا کرنے والی دلیلیں ہیں، پھر تم سے جو شخص اس مہینے کو پائے تو اسے چاہیے کہ اس کے روزے رکھے اور جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا اور تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو۔"
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے پورے آخری عشرے میں شب بیداری، اعتکاف اور گھر والوں کو جگانے کا اہتمام کرتے تھے۔ [البخاری: 2024]
➍ لیلۃ القدر دعا کی قبولیت کی ایک گھڑی ہے ہر سال لیلۃ القدر بھی چاند کی طرح گھومتی رہتی ہے ضروری نہیں ایک سال ستائیس کو آئی تو آئندہ بھی ستائیس کو ہی آئے گی اس لیے آخری عشرے میں تلاش کرنی چاہیے۔
➎ جس نے لیلۃ القدر میں عقیدہ توحید، ایمان اور خالص نیتِ ثواب سے عبادت کی اس کے گناہ معاف ہوں گے اسی طرح لیلۃ القدر کے علاوہ ہر اذان و اقامت کے درمیان کا وقت، فرضوں کے بعد کا وقت، حالتِ سفر میں، بارش کے نزول کے وقت، ہر روز رات کے آخری پہر اور جمعہ کے روز بھی دعا کی قبولیت کی گھڑیاں موجود ہیں یہ گھڑیاں ہر صحیح العقیدہ اور خالص نیت والے کو میسر ہیں بس انسان متلاشی ہونا چاہیے محض اوہام اور امیدیں انسان کے کام نہیں آتیں ﴿وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى﴾ [النجم: 39] عمل کام آتا ہے: عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری