حدیث نمبر: 317
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، وَعَبْدَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : قُلْتُ لأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ لا يَتَّكِلُوا ثُمَّ حَلَفَ أُبَيٌّ لا يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ قُلْتُ : يَا أَبَا الْمُنْذِرِ بِأَيِّ شَيْءٍ تَعْلَمُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : بِالآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ صَبِيحَةَ ذَلِكَ الْيَوْمَ لا شُعَاعَ لَهَا .
نوید مجید طیب

زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا آپ کے بھائی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”جو پورا سال قیام کرتا ہے وہ لیلۃ القدر پالیتا ہے“، تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ اُن پر رحم فرمائے۔ انہیں معلوم ہے کہ لیلتہ القدر رمضان میں ہے اور ستائیسویں رات ہے لیکن انہوں نے چاہا ہے کہ لوگ اس پر قناعت کر کے نہ بیٹھ جائیں“، پھر انہوں نے ان شاء اللہ کہے بغیر قسم کھا کر کہا کہ ”لیلۃ القدر رمضان کی ستائیسویں رات ہی ہے“، میں نے کہا اے ابو منذر آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ انہوں نے کہا: ”اس نشانی کی بنیاد پر جو رسول اللہ ﷺ نے بتائی تھی کہ اس صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعائیں مدہم ہوتی ہیں۔“

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب صيام من أصبح جنبا / حدیث: 317
تخریج حدیث سنن ترمذی، التفسیر، باب تفسير سورة القدر، رقم : 3351 وقال حسن صحيح وقال الالبانی: حسن صحيح ، سنن ابی داؤد، الصلاة، باب في ليلة القدر، رقم : 1378