حدیث نمبر: 316
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا رَأَى لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ أَنَّهَا لَيْلَةُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي الْوِتْرِ مِنْهَا " ، أَوْ " فِي السَّبْعِ الْبَوَاقِي " . شَكَّ سُفْيَانُ : قَالَ : " فِي الْوِتْرِ " ، أَوْ " فِي السَّبْعِ الْبَوَاقِي " .
نوید مجید طیب

سالم رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے خواب میں لیلتہ القدر دیکھی اس نے کہا کہ ”میں نے ایسے ایسے دیکھا ہے“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب موافقت کر رہے ہیں تو لیلۃ القدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو یا جو سات باقی راتیں رہ گئی ہیں ان میں تلاش کرو۔“ سفیان رحمہ اللہ (راوی) نے شک کیا کہ طاق میں تلاش کرنے کا کہا یا باقی سات میں تلاش کرنے کا کہا۔

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب صيام من أصبح جنبا / حدیث: 316
تخریج حدیث صحیح مسلم، الصيام، باب فضل ليلة القدر والحث على طلبها رقم : 1165