حدیث نمبر: 314
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقُلْتُ : أَيْ أُمَّهْ ، أَخْبِرِينِي عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَمَا رَأَيْتُهُ صَائِمًا فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ بَلْ كَانَ يَصُومُهُ إِلا قَلِيلا " .
نوید مجید طیب

ابو سلمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں میں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور عرض کی اماں جی مجھے رسول اللہ ﷺ کے روزوں کے بارے میں بتائیں، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ (نفلی) روزے (اس تسلسل سے) رکھتے کہ ہم کہتے روزے ہی رکھتے جارہے ہیں اور افطار کرتے حتی کہ ہم کہتے آپ ﷺ نے روزے چھوڑ ہی دیئے ہیں، میں نے نبی اکرم ﷺ کو کبھی شعبان سے زیادہ کسی ماہ کے روزے رکھتے نہیں دیکھا (گویا کہ پورا ماہ روزے میں ہی گزار دیتے چند دن ہی چھوڑتے)۔

وضاحت:
➊ نفلی روزے مسلسل رکھنا جائز ہے بشرطیکہ پورا ماہ نہ رکھے جائیں۔
➋ وصال کرنا یا پورے سال روزے میں رکھنا خلاف شرع ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے۔ ماہ شعبان میں نفلی روزے کا اہتمام دیگر ماہ کی نسبت زیادہ کرنا چاہیے، بہترین روزے رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دن روزہ ہو اور ایک دن افطار ہو جیسے داؤد علیہ السلام رکھتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر رکھتے اور وہ عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب صيام من أصبح جنبا / حدیث: 314
تخریج حدیث صحيح مسلم، الصوم، باب صيام النبي في غير رمضان، رقم : 1156