السنن المأثورة
باب صيام من أصبح جنبا— جنابت کی حالت میں روزہ کا بیان
باب صيام من أصبح جنباً باب: جنابت کی حالت میں روزہ کا بیان
حدیث نمبر: 313
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ لا يَجِدُ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ وَلا الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ يَرَوْنَ أَنَّهُ مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ أَنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ جَمِيلٌ وَمَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ أَنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ جَمِيلٌ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سفر کیا ہم روزے دار بھی تھے، بغیر روزہ کے بھی، ایک دوسرے کو کچھ نہیں کہتے تھے ان کا خیال تھا کہ جس کو ہمت ہے وہ روزے رکھ لے تو اچھی بات ہے اور جو کمزوری محسوس کرے وہ سفر میں روزہ نہ رکھے تو (اس کے حق میں) یہ اچھی بات ہے۔
وضاحت:
➊ سفر میں روزہ کی رخصت ہے لیکن اگر طاقت و قوت ہو تو رکھنے کی بھی اجازت ہے جیسا کہ مذکورہ بالا احادیث میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روزہ رکھا بھی اور بعض نے افطار بھی کیا اور حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کو بھی ہمت و طاقت کی وجہ سے اجازت دی گئی۔
➋ جس حدیث میں یہ ہے کہ سفر میں روزہ نیکی نہیں اس سے مراد مشقت میں پڑنے کے باوجود روزہ نہ چھوڑنا کہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیا جائے اس طرح کا روزہ نیکی نہیں بلکہ خود کشی ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ایک آدمی کو دیکھا جس نے دوسروں کو بھی مشقت میں ڈالا ہوا ہے لوگوں نے اس پر سایہ کیا ہوا ہے اس کی زندگی بچا رہے ہیں پتہ چلا یہ روزے دار ہے اس موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: سفر میں روزہ رکھ لینا کوئی نیکی نہیں۔ [صحیح بخاری: 1946]
➍ سفر میں روزہ کی رخصت ہر حال میں قائم ہے چاہے پیدل سفر ہو یا ہوائی جہاز پر خواہ تھکاوٹ ہو یا سفر آرام دہ ہو کیونکہ شریعت نے مطلقاً اجازت دی ہے اہل رائے کی قیود کا خیال نہیں رکھا کہ اب سفر آسان ہو گئے ہیں نماز قصر نہ کرو یا روزہ نہ چھوڑو ٹیکنالوجی کی دریافت سے شرعی احکام معطل نہیں ہو سکتے جو عہد نبوی میں سنت تھی آج بھی سنت ہے اور قیامت تک سنت ہی رہے گی، جو اس وقت دین نہیں تھا آج بھی دین نہیں ہو سکتا، کل بھی دین نہیں ہو سکتا۔
درد دل مسلم مقام مصطفٰی است
آبروئے ماز نام مصطفٰی است
➋ جس حدیث میں یہ ہے کہ سفر میں روزہ نیکی نہیں اس سے مراد مشقت میں پڑنے کے باوجود روزہ نہ چھوڑنا کہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیا جائے اس طرح کا روزہ نیکی نہیں بلکہ خود کشی ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ایک آدمی کو دیکھا جس نے دوسروں کو بھی مشقت میں ڈالا ہوا ہے لوگوں نے اس پر سایہ کیا ہوا ہے اس کی زندگی بچا رہے ہیں پتہ چلا یہ روزے دار ہے اس موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: سفر میں روزہ رکھ لینا کوئی نیکی نہیں۔ [صحیح بخاری: 1946]
➍ سفر میں روزہ کی رخصت ہر حال میں قائم ہے چاہے پیدل سفر ہو یا ہوائی جہاز پر خواہ تھکاوٹ ہو یا سفر آرام دہ ہو کیونکہ شریعت نے مطلقاً اجازت دی ہے اہل رائے کی قیود کا خیال نہیں رکھا کہ اب سفر آسان ہو گئے ہیں نماز قصر نہ کرو یا روزہ نہ چھوڑو ٹیکنالوجی کی دریافت سے شرعی احکام معطل نہیں ہو سکتے جو عہد نبوی میں سنت تھی آج بھی سنت ہے اور قیامت تک سنت ہی رہے گی، جو اس وقت دین نہیں تھا آج بھی دین نہیں ہو سکتا، کل بھی دین نہیں ہو سکتا۔
درد دل مسلم مقام مصطفٰی است
آبروئے ماز نام مصطفٰی است